السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب النهي عن الإناء المفضض باب: چاندی جڑے ہوئے برتن کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 110
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْكِيسَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أُتِيَ بِقَدَحٍ مُفَضَّضٍ لِيَشْرَبَ مِنْهُ فَأَبَى أَنْ يَشْرَبَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: " إِنَّ ابْنَ عُمَرَ مُنْذُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، لَمْ يَشْرَبْ فِي الْقَدَحِ الْمُفَضَّضِ ". وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس چاندی کے ساتھ پالش کیا ہوا پیالہ لایا گیا تاکہ وہ اس سے پئیں، لیکن انہوں نے اس میں پینے سے انکار کر دیا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جب سے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے ”سونے اور چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا ہے“ تب سے چاندی لگے ہوئے برتن میں نہیں کھایا۔