کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: پتھر، شیشے، پیتل، تانبے، کانسے، لکڑی اور ان کے علاوہ دیگر تمام برتنوں سے پاکی حاصل کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيبَ الدَّارِ إِلَى أَهْلِهِ يَتَوَضَّأُ وَبَقِيَ قَوْمٌ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ فَصَغُرَ الْمِخْضَبُ أَنْ يَبْسُطَ فِيهِ كَفَّهُ، فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ. قُلْنَا: كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: ثَمَانِينَ وَزِيَادَةً ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُنِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَكْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز کا وقت ہو گیا تو جن کا گھر قریب تھا وہ وضو کرنے کے لیے اپنے گھر والوں کی طرف اٹھ کر چلے گئے اور کچھ لوگ باقی رہ گئے۔ نبی ﷺ کے پاس پتھر کا بنا ہوا برتن جو کپڑوں کو رنگنے کے لیے تھا اس میں پانی تھا وہ لایا گیا تو وہ برتن اتنا چھوٹا تھا کہ آپ ﷺ اس میں اپنی ہتھیلی نہ پھیلا سکتے تھے، پھر بھی تمام لوگوں نے (اس سے) وضو کیا۔ ہم نے پوچھا: ”ان کی تعداد کتنی تھی؟“ انہوں نے کہا: ”اسی سے زیادہ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِوَضُوءٍ فَجِيئَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ أَحْسَبُهُ قَالَ: قَدَحِ زُجَاجٍ، فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهِ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ، فَحَزَرْتُهُمْ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ كَأَنَّهُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ". قَالَ ابْنُ خُزَيْمَةَ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالُوا: رَحْرَاحٍ مَكَانَ زُجَاجٍ. قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ كَمَا قَالَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے پانی منگوایا تو (آپ کے پاس) پیالہ لایا گیا جس میں پانی تھا، راوی کہتا ہے: ”میرا گمان ہے کہ شیشے کا پیالہ تھا،“ آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں اس میں رکھیں، لوگ یکے بعد دیگرے وضو کرنے لگے، میں نے ان کا اندازہ ستر (70) سے اسی (80) کے درمیان لگایا، پھر میں نے پانی کی طرف دیکھنا شروع کیا کہ وہ آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا ہے۔
(ب) امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد بن زید سے کئی راویوں نے بیان کیا ہے جس میں «زُجَاجٍ» کی جگہ «رَحْرَاحٍ» کے الفاظ ہیں۔ شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں: بات ویسے ہی ہے جیسے انہوں نے کہی۔
(ب) امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد بن زید سے کئی راویوں نے بیان کیا ہے جس میں «زُجَاجٍ» کی جگہ «رَحْرَاحٍ» کے الفاظ ہیں۔ شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں: بات ویسے ہی ہے جیسے انہوں نے کہی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ الْمُقْرِي، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فِيهِ ⦗٤٩⦘ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهِ ". قَالَ أَنَسٌ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ. قَالَ أَنَسٌ: فَحَزَرْتُ مَنْ تَوَضَّأَ مِنْهُ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے پانی کا ایک برتن منگوایا، ایک چوڑا اور کم گہرا پیالہ لایا گیا، اس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں اس میں رکھیں، میں پانی کی طرف دیکھنے لگا جو آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اس (برتن) سے وضو کرنے والے ستر (70) سے اسی (80) کے درمیان (افراد) تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ ح. وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَاهَانَ الْهَمْدَانِيُّ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " جَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً فِي تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہمارے پاس نبی کریم ﷺ آئے، ہم نے آپ ﷺ کے لیے پیتل کے برتن میں پانی نکالا، آپ ﷺ نے اس سے وضو کیا، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے بازوؤں کو دو دو مرتبہ اور اپنے سر کا مسح کیا، اپنے ہاتھوں کو آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے اور اپنے پاؤں دھوئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: قَرَأْنَاهُ عَلَى أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهَ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسٍ وَرَجُلٍ آخَرُ " قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلِ الْآخَرُ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ. وَكَانَتْ عَائِشَةُ، تُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بَعْدَ مَا دَخَلَ بَيْتِي وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ: " أَهْرِيقُوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ ". فَأُجْلِسَ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ طَفِقْنَا نَصَبُّ عَلَيْهِ مِنْ تِلْكَ الْقِرَبِ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَيُقَالُ: إِنَّ ذَلِكَ الْمِخْضَبَ كَانَ مِنْ نُحَاسٍ وَذَلِكَ فِيمَا.
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب نبی کریم ﷺ بھاری ہو گئے اور آپ ﷺ کی تکلیف زیادہ ہو گئی تو آپ ﷺ نے اپنی بیویوں سے اجازت لی کہ میرے گھر میں میری تیمار داری کی جائے، انہوں نے آپ ﷺ کو اجازت دے دی۔ نبی کریم ﷺ دو آدمیوں کے سہارے نکلے اور آپ ﷺ کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ وہ (دو آدمی) سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صحابی تھے۔ عبیداللہ کہتے ہیں: میں نے اس بات کی خبر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دی تو انہوں نے فرمایا: ”کیا تو جانتا ہے دوسرا آدمی کون تھا؟“ میں نے کہا: نہیں۔ فرماتے ہیں: ”وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتایا کرتی تھیں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے گھر میں داخل ہونے کے بعد فرمایا اور آپ ﷺ کی تکلیف بڑھ گئی تھی: ”مجھ پر ایسی سات مشکیں پانی بہاؤ جن کے منہ کھولے نہ گئے ہوں، شاید میں لوگوں کو وصیت کر سکوں۔“ پھر آپ ﷺ کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے کپڑے دھونے والے برتن میں بٹھایا گیا۔
پھر ہم آپ ﷺ پر پانی ڈالنا شروع ہوئیں حتیٰ کہ آپ ﷺ ہماری طرف اشارہ کرنا شروع ہوئے کہ کافی ہے، پھر آپ ﷺ لوگوں کی طرف نکلے۔
پھر ہم آپ ﷺ پر پانی ڈالنا شروع ہوئیں حتیٰ کہ آپ ﷺ ہماری طرف اشارہ کرنا شروع ہوئے کہ کافی ہے، پھر آپ ﷺ لوگوں کی طرف نکلے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَوْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: " صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ فَأَعْهَدَ إِلَى النَّاسِ ". قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ، وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ. قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى مَرَّةً، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ مِنْ نُحَاسٍ، وَلَمْ يَقُلْ ثُمَّ خَرَجَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ح..
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرضِ وفات میں فرمایا: ”مجھ پر پانی کی ایسی سات مشکیں ڈالو جن کے منہ کھولے نہ گئے ہوں، شاید مجھے راحت مل جائے، پھر میں لوگوں کو وصیت کر سکوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم نے آپ ﷺ کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے کپڑے دھونے والے پیتل کے برتن میں بٹھایا۔ پھر ہم نے آپ ﷺ پر پانی ڈالا حتیٰ کہ آپ ﷺ نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ کافی ہے۔ پھر آپ ﷺ (لوگوں کی طرف) تشریف لے گئے۔
(ب) عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا ہے، لیکن اس میں «مِنْ نُحَاسٍ» کے الفاظ نہیں ہیں۔ اسی طرح «ثُمَّ خَرَجَ» کے الفاظ بھی نہیں ہیں۔
(ب) عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا ہے، لیکن اس میں «مِنْ نُحَاسٍ» کے الفاظ نہیں ہیں۔ اسی طرح «ثُمَّ خَرَجَ» کے الفاظ بھی نہیں ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ نَحْوَهُ: " لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ ". كَذَا أَخْبَرَنَا فِي الْمُسْتَدْرَكِ، إِجَازَةً.
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا اسی پچھلی روایت کی طرح ہی بیان کرتی ہیں (لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں): ”شاید کہ میں راحت پاؤں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، أنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّوَّافُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ أَبُو عَامِرٍ الْعَدَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَوْرٍ مِنْ شَبَهٍ يُبَادِرُنِي مُبَادَرَةً ". جَوَّدَهُ حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ، وَقَصَّرَ بِهِ بَعْضُهُمْ عَنْ حَمَّادٍ، فَقَالَ: عَنْ رَجُلٍ، فَلَمْ يُسَمِّ شُعْبَةَ، وَأَرْسَلَهُ بَعْضُهُمْ، فَلَمْ يَذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ عُرْوَةَ، وَكَذَلِكَ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی پیتل کے برتن سے غسل کرتے تھے، آپ ﷺ مجھ سے پانی لینے میں جلدی کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ سَهْلٌ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: " اسْقِنَا يَا سَهْلُ ". قَالَ: فَأَخْرَجْتُ لَهُمْ هَذَا الْقَدَحَ فَسَقَيْتُهُمْ فِيهِ. قَالَ أَبُو حَازِمٍ: فَأَخْرَجَ إِلَيْنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ فَشَرِبْنَا فِيهِ. قَالَ: ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ إِيَّاهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَوَهَبَهُ لَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ. وَقَدْ رُوِّينَا، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قَدَحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ مِنْ خَشَبٍ، وَيُذْكَرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَرَأَى فِي بَيْتِهِ قَدَحًا مِنْ خَشَبٍ فَقَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ فِيهِ وَيَتَوَضَّأُ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس عرب کی ایک عورت کا تذکرہ کیا گیا۔ پھر لمبی حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ اس دن رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آئے اور بنی ساعدہ کے سائبان میں بیٹھ گئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے سہل! ہم کو پانی پلاؤ۔“ سہل کہتے ہیں: ہم نے آپ کے لیے یہ پیالہ نکالا اور آپ کو اس میں پانی پلایا۔
(ب) ابو حازم کہتے ہیں: سہل نے ہماری طرف یہ پیالہ نکالا، ہم نے اس میں پانی پیا۔ پھر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے یہ پیالہ مانگا تو انہوں نے دے دیا۔
(ج) محمد بن ابی اسماعیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے ان کے گھر میں لکڑی کا ایک پیالہ دیکھا تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ اس میں پیتے اور وضو کرتے تھے۔
(ب) ابو حازم کہتے ہیں: سہل نے ہماری طرف یہ پیالہ نکالا، ہم نے اس میں پانی پیا۔ پھر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے یہ پیالہ مانگا تو انہوں نے دے دیا۔
(ج) محمد بن ابی اسماعیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے ان کے گھر میں لکڑی کا ایک پیالہ دیکھا تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ اس میں پیتے اور وضو کرتے تھے۔