کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ہاتھی اور ان دیگر جانوروں کی ہڈیوں (کے برتنوں) میں تیل رکھنے کی ممانعت کا بیان جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، وَأَبِي بِشْرٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ہر کچلیوں والے درندے اور ہر پنجوں والے پرندے“ سے منع فرمایا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْبُوشْنَجِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ حَسَّانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: وَأنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا صَدَقَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُكَيْمٍ، ثنا مَشْيَخَةٌ، لَنَا مِنْ جُهَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِمْ: " لَا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِشَيْءٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں جہینہ قبیلے کے مشائخ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے انہیں خط لکھا کہ ”مردار کی کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ ⦗٤١⦘ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: وَرَوَى عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، " يَكْرَهُ أَنْ يُدَّهَنَ، فِي مِدْهَنٍ مِنْ عِظَامِ الْفِيلِ لِأَنَّهُ مَيْتَةٌ ". هَكَذَا ذَكَرَهُ فِي الْجَدِيدِ. وَرَوَاهُ فِي الْقَدْيمِ كَمَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق سنا کہ وہ ہاتھی کی ہڈیوں میں تیل وغیرہ رکھنا حرام سمجھتے تھے، کیونکہ وہ مردار ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ " كَرِهَ أَنْ يُدَّهَنَ، فِي عَظْمِ فِيلٍ ". وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ " أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ عِظَامَ الْفِيلِ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَيُذْكَرُ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ كَرِهَ الِانْتِفَاعَ بِعِظَامِ الْفِيَلَةِ وَأَنْيَابِهَا. وَعَنْ طَاوُسٍ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُمَا كَرِهَا الْعَاجَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ ہاتھی کی ہڈی سے بنی ہوئی چیز میں تیل رکھنا حرام سمجھتے تھے۔ دوسری جگہ یہ الفاظ ہیں: وہ ہاتھی کی ہڈیوں کو (استعمال کرنا) حرام سمجھتے تھے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء تابعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ ہاتھی کی ہڈیوں اور دانتوں سے فائدہ اٹھانا مکروہ سمجھتے تھے۔
(ج) طاؤس رحمہ اللہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ دونوں ہاتھی کے دانت کا استعمال کرنا مکروہ سمجھتے تھے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء تابعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ ہاتھی کی ہڈیوں اور دانتوں سے فائدہ اٹھانا مکروہ سمجھتے تھے۔
(ج) طاؤس رحمہ اللہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ دونوں ہاتھی کے دانت کا استعمال کرنا مکروہ سمجھتے تھے۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الشَّامِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمُنَبِّهِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا سَافَرَ كَانَ آخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ مِنْ أَهْلِهِ فَاطِمَةَ، وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِذَا قَدِمَ فَاطِمَةُ فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ وَقَدْ عَلَّقَتْ مَسْحًا أَوْ سِتْرًا عَلَى بَابِهَا، وَحَلَّتِ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ قُلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، فَقَدِمَ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَظَنَّتْ إِنَّمَا مَنَعَهُ أَنْ يَدْخُلَ مَا رَأَى، فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَفَكَّتِ الْقُلْبَيْنِ عَنِ الصَّبِيَّيْنِ وَقَطَّعَتْهُ بَيْنَهُمَا، فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ، فَأَخَذَهُ مِنْهُمَا، وَقَالَ: " يَا ثَوْبَانُ، اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى آلِ فُلَانٍ أَهْلِ بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ، إِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي أَكْرَهُ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا. يَا ثَوْبَانُ، اشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ، وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ ". قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ: حُمَيْدٌ الشَّامِيُّ هَذَا إِنَّمَا أُنْكِرُ عَلَيْهِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَهُوَ حَدِيثُهُ لَمْ أَعْلَمْ لَهُ غَيْرَهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيِّ بْنِ أَبِي عِصْمَةَ، ثنا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الشَّامِيِّ، هَذَا، قَالَ: لَا أَعْرِفُهُ، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأُشْنَانِيُّ، قَالُوا: أَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: فَحُمَيْدٌ الشَّامِيُّ كَيْفَ حَدِيثُهُ الَّذِي يَرْوِي حَدِيثَ ثَوْبَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمُنَبِّهِيِّ؟ فَقَالَ: مَا أَعْرِفُهُمَا. ⦗٤٢⦘ وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ آخَرُ مُنْكَرٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ مولیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کرتے تو اپنے اہل میں سے سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے اور جب واپس تشریف لاتے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سب سے پہلے تشریف لاتے۔ ایک غزوہ سے آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو دروازے پر ایک چمڑا یا پردہ لٹک رہا تھا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو چاندی کے دو کنگن پہنائے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ تشریف لائے تو اندر داخل نہیں ہوئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گمان کیا کہ جو آپ ﷺ نے دیکھا ہے، اس نے داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ ہٹا دیا اور بچوں سے کنگن اتار دیے اور ان دونوں کو الگ الگ کر دیا، وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور دونوں رو رہے تھے، آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کو پکڑا اور فرمایا: ”اے ثوبان! اس کو فلاں کی طرف لے جاؤ (مدینہ میں فلاں گھر کی طرف)، کیونکہ یہ میرے اہل بیت ہیں، میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ دنیا کی زندگی میں کھائیں پئیں۔ اے ثوبان! فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے لیے پٹھوں سے بنا ہوا ہار اور ہاتھی کے دانتوں سے بنے ہوئے دو کنگن خرید کر لے آؤ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ الْمَجْدَ آبَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِهِ الْجُرْجُسِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ طَهُورَهُ وَسِوَاكَهُ وَمِشْطَهُ، فَإِذَا هَبَّهُ اللهُ تَعَالَى مِنَ اللَّيْلِ اسْتَاكَ، وَتَوَضَّأَ وَامْتَشَطَ ". قَالَ: " وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَشَّطُ بِمُشْطٍ مِنْ عَاجٍ ". قَالَ عُثْمَانُ: هَذَا مُنْكَرٌ. قَالَ الشَّيْخُ: رِوَايَةُ بَقِيَّةَ عَنْ شِيُوخِهِ الْمَجْهُولِينَ ضَعِيفَةٌ. وَقَدْ قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ الْعَاجُ الذَّبْلُ وَيُقَالُ: هُوَ عَظْمُ ظَهْرِ السُّلَحْفَاةِ الْبَحْرِيَّةِ. وَأَمَّا الْعَاجُ الَّذِي تَعْرِفُهُ الْعَامَّةُ فَهُوَ عَظْمُ أَنْيَابِ الْفِيَلَةِ وَهُوَ مَيْتَةٌ لَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب رات کو سونے کے لیے بستر پر تشریف لاتے تو اپنا پانی والا برتن، مسواک اور کنگھی بھی رکھتے۔ جب اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو رات میں بیدار کرتا تو آپ ﷺ مسواک کرتے، وضو کرتے اور کنگھی کرتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ہاتھی دانت سے بنی ہوئی کنگھی کرتے تھے۔
(ب) عثمان کہتے ہیں: یہ روایت منکر ہے۔
(ج) اصمعی کہتے ہیں کہ عاج ذبل کو کہتے ہیں اور بعض نے کہا: بڑے بحری کچھوے کی ہڈی کو کہتے ہیں اور عاج ہاتھی کی کچلیوں کی بڑی ہڈی کو کہتے ہیں اور وہ مردار ہے، اس کی کسی چیز کا استعمال درست نہیں۔
(ب) عثمان کہتے ہیں: یہ روایت منکر ہے۔
(ج) اصمعی کہتے ہیں کہ عاج ذبل کو کہتے ہیں اور بعض نے کہا: بڑے بحری کچھوے کی ہڈی کو کہتے ہیں اور عاج ہاتھی کی کچلیوں کی بڑی ہڈی کو کہتے ہیں اور وہ مردار ہے، اس کی کسی چیز کا استعمال درست نہیں۔