السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب المنع من الادهان في عظام الفيلة، وغيرها مما لا يؤكل لحمه باب: ہاتھی اور ان دیگر جانوروں کی ہڈیوں (کے برتنوں) میں تیل رکھنے کی ممانعت کا بیان جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا
حدیث نمبر: 98
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ الْمَجْدَ آبَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِهِ الْجُرْجُسِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ طَهُورَهُ وَسِوَاكَهُ وَمِشْطَهُ، فَإِذَا هَبَّهُ اللهُ تَعَالَى مِنَ اللَّيْلِ اسْتَاكَ، وَتَوَضَّأَ وَامْتَشَطَ ". قَالَ: " وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَشَّطُ بِمُشْطٍ مِنْ عَاجٍ ". قَالَ عُثْمَانُ: هَذَا مُنْكَرٌ. قَالَ الشَّيْخُ: رِوَايَةُ بَقِيَّةَ عَنْ شِيُوخِهِ الْمَجْهُولِينَ ضَعِيفَةٌ. وَقَدْ قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ الْعَاجُ الذَّبْلُ وَيُقَالُ: هُوَ عَظْمُ ظَهْرِ السُّلَحْفَاةِ الْبَحْرِيَّةِ. وَأَمَّا الْعَاجُ الَّذِي تَعْرِفُهُ الْعَامَّةُ فَهُوَ عَظْمُ أَنْيَابِ الْفِيَلَةِ وَهُوَ مَيْتَةٌ لَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب رات کو سونے کے لیے بستر پر تشریف لاتے تو اپنا پانی والا برتن، مسواک اور کنگھی بھی رکھتے۔ جب اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو رات میں بیدار کرتا تو آپ ﷺ مسواک کرتے، وضو کرتے اور کنگھی کرتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ہاتھی دانت سے بنی ہوئی کنگھی کرتے تھے۔
(ب) عثمان کہتے ہیں: یہ روایت منکر ہے۔
(ج) اصمعی کہتے ہیں کہ عاج ذبل کو کہتے ہیں اور بعض نے کہا: بڑے بحری کچھوے کی ہڈی کو کہتے ہیں اور عاج ہاتھی کی کچلیوں کی بڑی ہڈی کو کہتے ہیں اور وہ مردار ہے، اس کی کسی چیز کا استعمال درست نہیں۔