کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: نبی ﷺ کے موئے مبارک کے بیان میں
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ، نَاوَلَ الْحَلَّاقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، فَنَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ شِقَّهُ الْأَيْسَرَ فَحَلَقَهُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بَيْنَ النَّاسِ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جمرہ میں رمی کی اور اپنی قربانی کا جانور ذبح کیا۔ پھر اپنے سر کی دائیں جانب حجام کے سامنے کی، حجام نے اس کو مونڈ دیا۔ پھر وہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیے۔ پھر بائیں جانب اس کے سامنے کی تو اس نے اسے بھی مونڈ دیا، آپ ﷺ نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”انھیں لوگوں میں تقسیم کر دے۔“
(ب) صحیح مسلم والی حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: پھر آپ ﷺ نے ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اسے لوگوں میں تقسیم کر دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 91
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم 326»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، أنبا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا أَبَانُ، ثنا يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ، شَهِدَ الْمَنْحَرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: " فَقَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَلَمْ يُصِبْهُ، وَلَا صَاحِبَهُ ". قَالَ: " فَحَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ، فَأَعْطَاهُ فَقَسَّمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ، وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَأَعْطَى صَاحِبَهُ، فَإِنْهُ عِنْدَنَا لَمَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ " تَابَعَهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبَانَ. وَالْخِضَابُ مِنْ عِنْدِهِمْ لِكَيْلَا يَتَغَيَّرَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا محمد بن عبداللہ بن زید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد قربان گاہ میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے، وہاں ایک انصاری بھی تھا۔ میرے والد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں میں قربانی کے جانور تقسیم کیے تو مجھے اور انصاری کو (قربانی) نہ ملی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک کپڑے پر اپنا سر منڈوایا تو مجھے وہ بال دے دیے، میں نے آدمیوں میں تقسیم کر دیے، پھر آپ ﷺ نے اپنے ناخن اتارے اور اپنے ساتھی کو دے دیے، وہ ہمارے پاس بھی ہیں اور وہ مہندی وغیرہ کے ساتھ رنگے ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 92
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه أحمد 4/42»