السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب المنع من الادهان في عظام الفيلة، وغيرها مما لا يؤكل لحمه باب: ہاتھی اور ان دیگر جانوروں کی ہڈیوں (کے برتنوں) میں تیل رکھنے کی ممانعت کا بیان جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الشَّامِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمُنَبِّهِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا سَافَرَ كَانَ آخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ مِنْ أَهْلِهِ فَاطِمَةَ، وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِذَا قَدِمَ فَاطِمَةُ فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ وَقَدْ عَلَّقَتْ مَسْحًا أَوْ سِتْرًا عَلَى بَابِهَا، وَحَلَّتِ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ قُلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، فَقَدِمَ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَظَنَّتْ إِنَّمَا مَنَعَهُ أَنْ يَدْخُلَ مَا رَأَى، فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَفَكَّتِ الْقُلْبَيْنِ عَنِ الصَّبِيَّيْنِ وَقَطَّعَتْهُ بَيْنَهُمَا، فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ، فَأَخَذَهُ مِنْهُمَا، وَقَالَ: " يَا ثَوْبَانُ، اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى آلِ فُلَانٍ أَهْلِ بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ، إِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي أَكْرَهُ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا. يَا ثَوْبَانُ، اشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ، وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ ". قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ: حُمَيْدٌ الشَّامِيُّ هَذَا إِنَّمَا أُنْكِرُ عَلَيْهِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَهُوَ حَدِيثُهُ لَمْ أَعْلَمْ لَهُ غَيْرَهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيِّ بْنِ أَبِي عِصْمَةَ، ثنا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الشَّامِيِّ، هَذَا، قَالَ: لَا أَعْرِفُهُ، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأُشْنَانِيُّ، قَالُوا: أَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: فَحُمَيْدٌ الشَّامِيُّ كَيْفَ حَدِيثُهُ الَّذِي يَرْوِي حَدِيثَ ثَوْبَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمُنَبِّهِيِّ؟ فَقَالَ: مَا أَعْرِفُهُمَا. ⦗٤٢⦘ وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ آخَرُ مُنْكَرٌ.سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ مولیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کرتے تو اپنے اہل میں سے سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے اور جب واپس تشریف لاتے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سب سے پہلے تشریف لاتے۔ ایک غزوہ سے آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو دروازے پر ایک چمڑا یا پردہ لٹک رہا تھا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو چاندی کے دو کنگن پہنائے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ تشریف لائے تو اندر داخل نہیں ہوئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گمان کیا کہ جو آپ ﷺ نے دیکھا ہے، اس نے داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ ہٹا دیا اور بچوں سے کنگن اتار دیے اور ان دونوں کو الگ الگ کر دیا، وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور دونوں رو رہے تھے، آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کو پکڑا اور فرمایا: ”اے ثوبان! اس کو فلاں کی طرف لے جاؤ (مدینہ میں فلاں گھر کی طرف)، کیونکہ یہ میرے اہل بیت ہیں، میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ دنیا کی زندگی میں کھائیں پئیں۔ اے ثوبان! فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے لیے پٹھوں سے بنا ہوا ہار اور ہاتھی کے دانتوں سے بنے ہوئے دو کنگن خرید کر لے آؤ۔“