حدیث نمبر: 75
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ طَهْمَانَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَرْكَبُوا الْخَزَّ وَلَا النِّمَارَ ". ⦗٣٥⦘ قَالَ مُحَمَّدُ: وَكَانَ مُعَاوِيَةُ إِذَا حَدَّثَ مِثْلَ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُتَّهَمُ. أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ وَهُوَ فِي الْخَزِّ مَحْمُولٌ عَلَى التَّنْزِيهِ وَدَلِيلُهُ يَرِدُ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى، وَرَوَى أَبُو شَيْخٍ الْهُنَائِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ هَكَذَا فِي جُلُودِ النُّمُورِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم ریشم اور چیتوں کی کھالوں پر سوار نہ ہو۔“
(ب) ریشم کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا، اس کی دلیل ”کتاب الصلوٰۃ“ میں آئے گی۔ ان شاء اللہ
(ج) ابو شیخ نہائی نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اسی طرح چیتوں کی کھالوں میں بھی۔
(ب) ریشم کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا، اس کی دلیل ”کتاب الصلوٰۃ“ میں آئے گی۔ ان شاء اللہ
(ج) ابو شیخ نہائی نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اسی طرح چیتوں کی کھالوں میں بھی۔
حدیث نمبر: 76
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلِيلٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَاهِلِيُّ، بِالرَّمْلَةِ، قَالَ: حَدَّثَ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَغْدَادِيُّ، وَأَنَا حَاضِرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْفِنُوا الْأَظْفَارَ وَالشَّعْرَ وَالدَّمَ فَإِنْهَا مَيْتَةٌ ". قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ بِأَحَادِيثَ لَمْ يُتَابِعْهُ أَحَدٌ عَلَيْهِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ. قَدْ رُوِيَ فِي دَفْنِ الظُّفُرِ وَالشَّعْرِ أَحَادِيثُ أَسَانِيدُهَا ضِعَافٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ناخنوں، بالوں اور خون کو دفن کر دو، کیونکہ یہ مردار ہیں۔“
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ناخن اور بال دفن کرنے والی احادیث کی اسناد ضعیف ہیں۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ناخن اور بال دفن کرنے والی احادیث کی اسناد ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 77
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهُوَ مَيْتَةٌ ". وَقَدْ يُحْتَجُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي الشَّعْرِ وَالظُّفُرِ وَإِنَّمَا وَرَدَ عَلَى سَبَبٍ، وَهُوَ فِيمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو واقد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”زندہ جانور سے جو (حصہ) کاٹ لیا جائے وہ مردار ہے۔“
(ب) اس حدیث سے بالوں اور ناخنوں کے بارے میں حجت لی جاتی ہے۔
(ب) اس حدیث سے بالوں اور ناخنوں کے بارے میں حجت لی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 78
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ⦗٣٦⦘ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يَجُبُّونَ أَسْنَامَ الْإِبِلِ، وَيَقْطَعُونَ أَلْيَاتِ الْغَنَمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهُوَ مَيْتَةٌ ". وَقَدِ احْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا.
حافظ ثناء اللہ
ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو لوگ اونٹوں کی کوہان کو پسند کرتے تھے اور دنبوں کی چکی بھی، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”زندہ جانور کا جو حصہ زندہ ہونے کی حالت میں کاٹ لیا جائے وہ مردار ہے (اس کا کھانا حرام ہے)۔“
(ب) ہمارے بعض اصحاب نے اس سے حجت لی ہے۔
(ب) ہمارے بعض اصحاب نے اس سے حجت لی ہے۔
حدیث نمبر: 79
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، مُنْذُ حِينٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ دَاجِنَةً كَانَتْ لِبَعْضِ نِسَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَاتَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيِّ. قَالَ: فَخَصَّ الْإِهَابَ بِالِاسْتِمْتَاعِ بِهِ. وَمَنْ قَالَ بِالْقَوْلِ الْآخَرِ احْتَجَّ بِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ امہات المؤمنین میں سے کسی کے پاس پالتو جانور تھا جو مر گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتار لیا، پھر تم اس سے فائدہ حاصل کرتیں!“
(ب) عثمان نوفلی کہتے ہیں کہ انھوں نے چمڑے کو فائدہ حاصل کرنے کے ساتھ خاص کیا۔
(ب) عثمان نوفلی کہتے ہیں کہ انھوں نے چمڑے کو فائدہ حاصل کرنے کے ساتھ خاص کیا۔
حدیث نمبر: 80
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ شَاةً مَيْتَةً أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا ". فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ: " إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي ⦗٣٧⦘ طَاهِرٍ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ قَالُوا: فَخَصَّ الْأَكْلَ بِالتَّحرِيمِ. وَقَدْ رَوَى أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ زِيَادَةً لَمْ يُتَابِعْهُ عَلَيْهَا ثِقَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مردہ بکری دیکھی جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام کو صدقہ میں دی گئی تھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ مردار ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا صرف (گوشت) کھانا حرام ہے۔“
(ب) فقہا کہتے ہیں کہ آپ نے صرف کھانا حرام قرار دیا ہے۔ ابوبکر ہذلی نے زہری سے اس روایت میں کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں جن کی کسی ثقہ نے متابعت نہیں کی۔
(ب) فقہا کہتے ہیں کہ آپ نے صرف کھانا حرام قرار دیا ہے۔ ابوبکر ہذلی نے زہری سے اس روایت میں کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں جن کی کسی ثقہ نے متابعت نہیں کی۔
حدیث نمبر: 81
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " إِنَّمَا حُرِّمَ مِنَ الْمَيْتَةِ مَا يُؤْكَلُ مِنْهَا وَهُوَ اللَّحْمُ فَأَمَّا الْجِلْدُ وَالسِّنُّ وَالْعَظْمُ وَالشَّعْرُ وَالصُّوفُ فَهُوَ حَلَالٌ ". قَالَ عَلِيٌّ: أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ضَعِيفٌ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ يَرْوِيهِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَرِهَ مِنَ الْمَيْتَةِ لَحْمَهَا فَأَمَّا السِّنُّ وَالشَّعْرُ وَالْقَدُّ فَلَا بَأْسَ بِهِ. قَالَ يَحْيَى: أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ لَيْسَ بِشَيْءٍ. وَقَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى:.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مردار کا گوشت کھانا حرام ہے، لیکن اس کی کھال، کوہان، ہڈی، بال اور اون حلال ہے۔
(ب) علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوبکر ہذلی ضعیف راوی ہے۔
(ج) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مردار کا گوشت حرام ہے، لیکن اس کی کوہان، بال اور کھال میں کوئی حرج نہیں۔
(د) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوبکر ہذلی قابلِ حجت نہیں ہے۔
(ب) علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوبکر ہذلی ضعیف راوی ہے۔
(ج) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مردار کا گوشت حرام ہے، لیکن اس کی کوہان، بال اور کھال میں کوئی حرج نہیں۔
(د) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوبکر ہذلی قابلِ حجت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 82
وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ: " إِنَّمَا حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَيْتَةِ لَحْمَهَا، فَأَمَّا الْجِلْدُ وَالشَّعْرُ وَالصُّوفُ فَلَا بَأْسَ بِهِ ". أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَيْلِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُسْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مُسْلِمٍ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: عَبْدُ الْجَبَّارِ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مردار کا گوشت حرام قرار دیا ہے، لیکن اس کی کھال، بال اور اون (کے استعمال) میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔“
شیخ علی بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبدالجبار راوی ضعیف ہے۔
شیخ علی بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبدالجبار راوی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 83
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو طَلْحَةَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا سَعْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، بِبَيْرُوتَ، ثنا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا بَأْسَ بِمَسْكِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَ، وَلَا بَأْسَ بِصُوفِهَا وَشَعْرِهَا وَقُرُونِهَا إِذَا غُسِلَ بِالْمَاءِ ". قَالَ عَلِيٌّ: يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ مَتْرُوكٌ، وَلَمْ يَأْتِ بِهِ غَيْرُهُ. أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو ⦗٣٨⦘ الْفضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْقِتْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ أَبُو الْفَيْضِ كَاتَبُ الْأَوْزَاعِيِّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”مردار کی کھال رنگنے کے بعد استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اس کی اون، بال اور سینگ بھی جب انہیں دھو لیا جائے۔“
علی کہتے ہیں کہ علی بن یوسف متروک ہے، اس کے علاوہ اس حدیث کو کوئی بیان نہیں کرتا۔
(ب) امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوفیض یوسف بن سفر جو اوزاعی کا کاتب ہے منکر الحدیث ہے۔
علی کہتے ہیں کہ علی بن یوسف متروک ہے، اس کے علاوہ اس حدیث کو کوئی بیان نہیں کرتا۔
(ب) امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوفیض یوسف بن سفر جو اوزاعی کا کاتب ہے منکر الحدیث ہے۔
حدیث نمبر: 84
قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ الْبَصْرِيِّ، سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: إِنَّمَا حُرِّمَ مِنَ الْمَيْتَةِ لَحْمُهَا وَدَمُهَا. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: قَالَ لَهُ إِسْرَائِيلُ: عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ مِثْلَهُ وَمَنْ قَالَ بِطَهَارَةِ الشَّعْرِ الَّذِي عَلَى جِلْدِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَ الْجِلْدُ احْتَجَّ بِمَا.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن قیس بصری رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مردار کا گوشت اور اس کا خون حرام ہے۔
(ب) جنہوں نے بالوں کو پاک قرار دیا ہے جو مردار کی کھال کے ساتھ ہوتے ہیں، جب کھال کو دباغت دی جائے تو وہ پاک ہو جاتے ہیں، یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔
(ب) جنہوں نے بالوں کو پاک قرار دیا ہے جو مردار کی کھال کے ساتھ ہوتے ہیں، جب کھال کو دباغت دی جائے تو وہ پاک ہو جاتے ہیں، یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔
حدیث نمبر: 85
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، أنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَائِيَّ فَرْوًا فَمَسَسْتُهُ، فَقَالَ: مَا لَكَ تَمَسُّهُ؟ قَدْ سَأَلْتُهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: إِنَا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ وَمَعَنْا الْبَرْبَرُ وَالْمَجُوسُ نُؤْتَى بِالْكَبْشِ قَدْ ذَبَحُوهُ، وَنَحْنُ لَا نَأْكُلُ ذَبَائِحَهُمْ وَنُؤتَى بِالسِّقَاءِ يَجْعَلُونَ فِيهِ الْوَدَكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " دِبَاغُهُ طَهُورُهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، وَغَيْرِهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو الخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن وعلہ سبائی رحمہ اللہ پر بالوں کا بنا ہوا لباس دیکھا تو میں نے اس کپڑے کو چھوا، انہوں نے پوچھا: تم اس کو چھو کر کیوں دیکھ رہے ہو؟ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ہم مغرب میں بربر اور مجوس قوم کے ساتھ رہتے ہیں اور ہمارے پاس مینڈھے لائے جاتے ہیں، وہ ذبح کرتے تھے، ہم ان کا ذبیحہ نہیں کھاتے تھے۔ ہمارے پاس مشکیزے لائے جاتے ہیں جن میں چربی ہوتی ہے؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا رنگنا اس کا پاک کرنا ہے۔“
حدیث نمبر: 86
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي بَحْرٍ، وَكَانَ يَنْزِلُ بِالْكُوفَةِ وَكَانَ أَصْلُهُ بِصْرِيًّا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ: " فِي الْفِرَاءِ ذَكَاتُهُ دِبَاغُهُ ". هَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے «الفِرَاءُ» (چمڑے) کے متعلق ارشاد فرمایا: اس کا پاک ہونا رنگنے سے ہے۔
حدیث نمبر: 87
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فَأَتَاهُ رَجُلٌ ذُو ضَفِيرَتَيْنِ فَقَالَ: يَا أَبَا عِيسَى، حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ فِي الْفِرَاءِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُصَلِّي فِي الْفِرَاءِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَيْنَ الدِّبَاغُ ". قَالَ ثَابِتٌ: فَلَمَّا وَلَّى قُلْتُ مَنْ هَذَا؟ ⦗٣٩⦘ قَالَ: سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ. رَوَاهُ بَعْضُ النَّاسِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى بِإِسْنَادِهِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ وَهُوَ غَلَطٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثابت بنانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں عبد الرحمن بن لیلیٰ رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو دو مینڈھوں والا ایک شخص آیا اور اس نے کہا: اے ابو عیسیٰ! اس کے بارے میں بیان کریں جو آپ نے فراء (چمڑے) کے بارے میں اپنے والد سے سنا، انہوں نے فرمایا: مجھے میرے باپ نے بیان کیا کہ وہ نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ایک شخص آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں فراء (چمڑے) پر نماز پڑھ لوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أَيْنَ الدِّبَاغُ؟» ”دباغت کس لیے ہے؟“ سیدنا ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ۔
(ب) بعض لوگوں نے عبیداللہ بن موسیٰ عن ثابت عن انس کی سند سے روایت کیا ہے، لیکن یہ روایت صحیح نہیں ہے۔
(ب) بعض لوگوں نے عبیداللہ بن موسیٰ عن ثابت عن انس کی سند سے روایت کیا ہے، لیکن یہ روایت صحیح نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 88
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِبَّانَ يُعْرَفُ بِأَبِي الشَّيْخِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ الثَّقَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَزْدِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ تَرَى فِي الصَّلَاةِ فِي الْفِرَاءِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَيْنَ الدِّبَاغُ ". فَالْإِسْنَادُ الْأَوَّلُ أَوْلَى أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا وَابْنُ أَبِي لَيْلَى هَذَا كَثِيرُ الْوَهْمِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! فراء نامی چمڑے پر نماز پڑھنے کے متعلق آپ ﷺ کا کیا خیال ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دباغت کس لیے ہے؟“ (یعنی رنگنے کے بعد اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں)
(ب) پہلی سند کا محفوظ ہونا زیادہ صحیح ہے۔ ابن ابی لیلیٰ کثیر الوہم ہے۔
(ب) پہلی سند کا محفوظ ہونا زیادہ صحیح ہے۔ ابن ابی لیلیٰ کثیر الوہم ہے۔
حدیث نمبر: 89
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ الْفِرَاءِ، فَقَالَتْ: " لَعَلَّ دِبَاغَهَا يَكُونُ ذَكَاتَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے «الْفِرَاء» (چمڑے) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: امید ہے کہ اس کو رنگنا اس کو پاک کر دے گا۔
حدیث نمبر: 90
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمٌ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ قَالَ: سَأَلَ دَاوُدُ السَّرَّاجُ الْحَسَنَ، عَنْ جُلُودِ النُّمُورِ وَالسَّمُورِ تُدْبَغُ بِالْمِلْحِ؟ فَقَالَ: " دِبَاغُهَا طَهُورُهَا ". قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَى عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ فِي صُوفِ الْمَيْتَةِ: اغْسِلْهُ. وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، وَالْحَكَمِ وَحَمَّادٍ أَنَّهُمْ كَرِهُوا اسْتِعْمَالَ شَعْرِ الْخِنْزِيرِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت داؤد سراج رحمہ اللہ نے حسن رحمہ اللہ سے چیتوں اور بندروں کی کھال کے متعلق پوچھا کہ اگر انہیں نمک سے دباغت دی جائے تو انہوں نے فرمایا: ”ان کو دباغت دینا ان کو پاک کرنا ہے۔“
(ب) شیخ فرماتے ہیں: حضرت حسن رحمہ اللہ سے مردار کی اون کے متعلق منقول ہے کہ اس کو دھو لیا جائے۔
(ج) حضرت عطاء رحمہ اللہ اس کو ناپسند کرتے تھے۔
(د) ابن سیرین رحمہ اللہ، حکم رحمہ اللہ اور حماد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ خنزیر کے بالوں کے استعمال کو حرام سمجھتے تھے۔
(ب) شیخ فرماتے ہیں: حضرت حسن رحمہ اللہ سے مردار کی اون کے متعلق منقول ہے کہ اس کو دھو لیا جائے۔
(ج) حضرت عطاء رحمہ اللہ اس کو ناپسند کرتے تھے۔
(د) ابن سیرین رحمہ اللہ، حکم رحمہ اللہ اور حماد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ خنزیر کے بالوں کے استعمال کو حرام سمجھتے تھے۔