السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب في شعر النبي صلى الله عليه وسلم باب: نبی ﷺ کے موئے مبارک کے بیان میں
حدیث نمبر: 92
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، أنبا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا أَبَانُ، ثنا يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ، شَهِدَ الْمَنْحَرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: " فَقَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَلَمْ يُصِبْهُ، وَلَا صَاحِبَهُ ". قَالَ: " فَحَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ، فَأَعْطَاهُ فَقَسَّمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ، وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَأَعْطَى صَاحِبَهُ، فَإِنْهُ عِنْدَنَا لَمَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ " تَابَعَهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبَانَ. وَالْخِضَابُ مِنْ عِنْدِهِمْ لِكَيْلَا يَتَغَيَّرَ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا محمد بن عبداللہ بن زید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد قربان گاہ میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے، وہاں ایک انصاری بھی تھا۔ میرے والد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں میں قربانی کے جانور تقسیم کیے تو مجھے اور انصاری کو (قربانی) نہ ملی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک کپڑے پر اپنا سر منڈوایا تو مجھے وہ بال دے دیے، میں نے آدمیوں میں تقسیم کر دیے، پھر آپ ﷺ نے اپنے ناخن اتارے اور اپنے ساتھی کو دے دیے، وہ ہمارے پاس بھی ہیں اور وہ مہندی وغیرہ کے ساتھ رنگے ہوئے تھے۔