حدیث نمبر: 91
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ، نَاوَلَ الْحَلَّاقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، فَنَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ شِقَّهُ الْأَيْسَرَ فَحَلَقَهُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بَيْنَ النَّاسِ "..
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جمرہ میں رمی کی اور اپنی قربانی کا جانور ذبح کیا۔ پھر اپنے سر کی دائیں جانب حجام کے سامنے کی، حجام نے اس کو مونڈ دیا۔ پھر وہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیے۔ پھر بائیں جانب اس کے سامنے کی تو اس نے اسے بھی مونڈ دیا، آپ ﷺ نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”انھیں لوگوں میں تقسیم کر دے۔“
(ب) صحیح مسلم والی حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: پھر آپ ﷺ نے ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اسے لوگوں میں تقسیم کر دے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 91
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم 326»