کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف با سے شروع ہونے والی احادیث
«البقرة عن سبعة والجزور عن سبعة في الأضاحي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قربانی کے موقع پر ایک گائے سات افراد کی طرف سے اور ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے ذبح کیا جا سکتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2890
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن مسعود. الروض النضير ٦١٣: طص، طس.
«البيت المعمور في السماء السابعة يدخله كل يوم سبعون ألف ملك ثم لا يعودون إليه حتى تقوم الساعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیت المعمور ساتویں آسمان میں ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، پھر وہ اس میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آتے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2891
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن ك هب] عن أنس. الصحيحة ٤٧٧.
«البيعان إذا اختلفا في البيع ترادا البيع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خریدار اور بیچنے والے جب خرید و فروخت میں آپس میں اختلاف کر بیٹھیں تو وہ دونوں بیع (سودا) کو ختم کر دیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2892
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن مسعود. بيوع الموسوعة.
«البيعان بالخيار ما لم يتفرقا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خریدار اور بیچنے والے کو اس وقت تک (سودا ختم کرنے کا) اختیار حاصل ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2893
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ] عن أبي برزة [هـ ك] عن سمرة. البيوع: الشافعي، الطيالسي، الطحاوي، ابن الجارود، قط، هق، - أبي برزة. الإرواء ١٢٨١.
«البيعان بالخيار ما لم يتفرقا إلا أن تكون صفقة خيار ولا يحل له أن يفارق صاحبة خشية أن يستقيله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خریدار اور بیچنے والے کو اس وقت تک (بیع ختم کرنے کا) اختیار حاصل ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں، سوائے اس کے کہ وہ اختیار کی شرط کے ساتھ سودا کریں، اور کسی کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے ساتھی سے اس ڈر سے جدا ہو جائے کہ کہیں وہ سودا منسوخ نہ کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2894
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ن] عن ابن عمرو. الإرواء ١٢٨١.
«البيعان بالخيار ما لم يتفرقا أو يقول أحدهما لصاحبه اختر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خریدار اور بیچنے والے کو اس وقت تک (سودا منسوخ کرنے کا) اختیار حاصل ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں، یا ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے کہ تم (بیع کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا) فیصلہ کر لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2895
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ٣] عن ابن عمر. الإرواء ١٣١٠/١.
«البيعان بالخيار ما لم يتفرقا فإن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما وإن كتما وكذبا محقت بركة بيعهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خریدار اور بیچنے والے کو اس وقت تک اختیار حاصل ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں۔ پس اگر ان دونوں نے سچ بولا اور (چیز کی اچھائی اور خامی کو) واضح کر دیا تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ڈال دی جائے گی، اور اگر انہوں نے (عیب کو) چھپایا اور جھوٹ بولا تو ان کی خرید و فروخت کی برکت مٹا دی جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2896
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٣] عن حكيم بن حزام. مختصر مسلم ٩٤٥، الإرواء ١٢٨١.
«البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”گواہ اور ثبوت پیش کرنا مدعی (دعویٰ کرنے والے) کے ذمے ہے اور قسم کھانا مدعا علیہ (جس پر دعویٰ کیا گیا ہو) کے ذمے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2897
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن ابن عمرو. الإرواء ٢٦٤١، ٢٦٦١، ٢٦٨٥.
«البينة وإلا فحد في ظهرك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد (کی سزا کے کوڑے) لگائے جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2898
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن هـ ك] عن ابن عباس. الإرواء: ٢٠٩٨: خ.