❮
❯
965/1273(صحيح الإسناد موقوفاً)عن نافع : " أن عبد الله بن عمر كان إذا وجد أحداً من أهله يلعب بالنرد ضربه، وكسرها".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب اپنے گھر والوں میں سے کسی کو نرد (چوسر) کھیلتے ہوئے پاتے تو اسے مارتے اور اس (نرد) کو توڑ دیتے۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 965
966/1274(حسن الإسناد موقوف) عن عائشة رضي الله عنها: أنها بلغها أن أهل بيت في دارها- كانوا سكاناً فيها- عندهم نرد، فأرسلت إليهم: "لئن لم تُخرجوها لأخرجنكم من داري"، وأنكرت ذلك عليهم.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں یہ خبر پہنچی کہ ان کے گھر میں رہنے والے ایک گھرانے کے لوگوں کے پاس، جو اس میں کرایہ دار تھے، نرد (چوسر) ہے، تو انہوں نے ان کی طرف پیغام بھیجا: ”اگر تم نے اسے نہ نکالا تو میں تمہیں اپنے گھر سے نکال دوں گی۔“ اور انہوں نے ان کے اس کام پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 966
967/1275 (حسن الإسناد موقوف) عن كلثوم بن جبر قال: خطبنا ابن الزبير، فقال: " يا أهل مكة! بغلني عن رجال من قريش يلعبون بلعبة يقال لها: النردشير- وكان أعسر(3)- قال والله: ?إنما الخمر والميسر?[المائدة: 90]، وإني أحلف بالله: لا أوتى برجل لعب بها إلا عاقبته في شعره وبشره، وأعطيت سلبه لمن أتاني به".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
کلثوم بن جبر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے اہل مکہ! مجھے قریش کے کچھ لوگوں کے بارے میں خبر پہنچی ہے کہ وہ ایک کھیل کھیلتے ہیں جسے نردشیر کہا جاتا ہے - اور وہ (ابن زبیر) بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے تھے - (پھر) فرمایا: اللہ کی قسم! (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) «إنما الخمر والميسر» ”بیشک شراب اور جوا ...“ اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میرے پاس جو بھی ایسا آدمی لایا گیا جس نے یہ کھیل کھیلا ہو تو میں اسے اس کے بالوں اور اس کی کھال میں سزا دوں گا، اور اس کا سامان اس شخص کو دے دوں گا جو اسے میرے پاس لائے گا۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 967
968/1277 (صحيح الإسناد موقوف) عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: "اللاعب بالفصين قماراً؛ كآكل لحم الخنزير، واللاعب بهما غير قمار، كالغامس يده في دم خنزير".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جوئے کے طور پر دو پانسوں سے کھیلنے والا سور کا گوشت کھانے والے کی طرح ہے، اور جوئے کے بغیر ان سے کھیلنے والا سور کے خون میں اپنا ہاتھ ڈبونے والے کی طرح ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 968