حدیث نمبر: 967
967/1275 (حسن الإسناد موقوف) عن كلثوم بن جبر قال: خطبنا ابن الزبير، فقال: " يا أهل مكة! بغلني عن رجال من قريش يلعبون بلعبة يقال لها: النردشير- وكان أعسر(3)- قال والله: ?إنما الخمر والميسر?[المائدة: 90]، وإني أحلف بالله: لا أوتى برجل لعب بها إلا عاقبته في شعره وبشره، وأعطيت سلبه لمن أتاني به".ترجمہ:مولانا عثمان منیب
کلثوم بن جبر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے اہل مکہ! مجھے قریش کے کچھ لوگوں کے بارے میں خبر پہنچی ہے کہ وہ ایک کھیل کھیلتے ہیں جسے نردشیر کہا جاتا ہے - اور وہ (ابن زبیر) بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے تھے - (پھر) فرمایا: اللہ کی قسم! (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) «إنما الخمر والميسر» ”بیشک شراب اور جوا ...“ اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میرے پاس جو بھی ایسا آدمی لایا گیا جس نے یہ کھیل کھیلا ہو تو میں اسے اس کے بالوں اور اس کی کھال میں سزا دوں گا، اور اس کا سامان اس شخص کو دے دوں گا جو اسے میرے پاس لائے گا۔“