❮
❯
919/1205 (صحيح) عن حذيفة قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن ينام قال: "باسمك اللهم أموت وأحيا". وإذا استيقظ من منامه، قال: "الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا، وإليه النشور".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: «باسمك اللهم أموت وأحيا» ”اے اللہ! تیرے ہی نام کے ساتھ میں مرتا اور جیتا ہوں ۔“ اور جب اپنی نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے: «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا، وإليه النشور» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا، اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 919
920/1206 (صحيح) عن أنس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أوى إلى فراشه، قال: "الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا، كم من لا كافٍ له ولا مؤوي!".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو فرماتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا، كم من لا كافٍ له ولا مؤوي» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، ہماری کفایت کی اور ہمیں ٹھکانا دیا، کتنے ہی ایسے ہیں جن کا نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی ٹھکانا دینے والا ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 920
921/1207 (صحيح من قول أبي الزبير، فهو مقطوع موقوف) عن جابر قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا ينام حتى يقرأ ?آلم، تنزيل? [السجدة/1209]، و?وتبارك الذي بيده الملك?". قال أبو الزبير: "فهما يفضلان كل سورة في القرآن بسبعين حسنة، ومن قرأهما كتب بهما سبعون حسنة، ورفع بهما له سبعون درجة، وحط بهما عنه سبعون خطيئة".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک «الم، تنزيل» ”(سورۃ السجدہ)“ اور «تبارك الذي بيده الملك» ”(سورۃ الملک)“ نہ پڑھ لیتے۔ ابوالزبیر نے کہا: یہ دونوں سورتیں قرآن کی ہر سورت پر ستر نیکیوں کی فضیلت رکھتی ہیں، جو ان کو پڑھے اس کے لیے ان کے بدلے ستر نیکیاں لکھی جاتی ہیں، ان کے ذریعے اس کے ستر درجے بلند کیے جاتے ہیں اور ان کے ذریعے اس کے ستر گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 921
922/1208(صحيح موقوف) قال عبد الله [ هو ابن مسعود]: " النوم عند الذكر من الشيطان، إن شئتم فجربوا، إذا أخذ أحدكم مضجعه، وأراد أن ينام فليذكر الله عز وجل".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ذکر کے وقت نیند (آنا) شیطان کی طرف سے ہے، اگر تم چاہو تو آزما کر دیکھ لو۔ جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر لیٹے اور سونے کا ارادہ کرے تو اللہ عزوجل کا ذکر کرے۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 922
923/1212(صحيح) عن أبي هريرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إذا أوى إلى فراشه: " اللهم رب السماوات والأرض، ورب كل شيء، فالق الحب والنوى، منزل التوراة والإنجيل والقرآن، أعوذ بك من شر ذي شر أنت آخذ بناصيته، أنت الأول فليس قبلك شيء، وأنت الآخر فليس بعدك شيء، وأنت الظاهر فليس فوقك شيء، وأنت الباطن فليس دونك شيء، اقضِ عني الدين، وأغنني من الفقر".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم رب السماوات والأرض، ورب كل شيء، فالق الحب والنوى، منزل التوراة والإنجيل والقرآن، أعوذ بك من شر ذي شر أنت آخذ بناصيته، أنت الأول فليس قبلك شيء، وأنت الآخر فليس بعدك شيء، وأنت الظاهر فليس فوقك شيء، وأنت الباطن فليس دونك شيء، اقض عني الدين، وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے رب اور ہر چیز کے رب، دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے، تورات، انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے! میں ہر اس شر والے کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے۔ تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو ہی ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں اور تو ہی باطن ہے، تجھ سے ورے کوئی چیز نہیں۔ میری طرف سے قرض ادا فرما دے اور مجھے فقر سے بے نیاز کر دے۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 923