917/1202 (صحيح) عن أبي هريرة قال : قال أبو بكر : يا رسول الله! علمني شيئاً أقوله إذا أصبحت وأمسيت، قال: "قل: اللهم عالم الغيب والشهادة، فاطر السماوات والأرض، رب كل شيء ومليكه (1) أشهد أن لا إله إلا أنت، أعوذ بك من شر نفسي، ومن شر الشيطان وشركه ؛ قلُهُ إذا أصبحت وإذا أمسيت، وإذا أخذت مضجعك".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیے جسے میں صبح و شام پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یوں کہو: «اللهم عالم الغيب والشهادة، فاطر السماوات والأرض، رب كل شيء ومليكه، أشهد أن لا إله إلا أنت، أعوذ بك من شر نفسي، ومن شر الشيطان وشركه» (اے اللہ! غیب اور حاضر کو جاننے والے، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، ہر چیز کے رب اور اس کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک (کی دعوت) سے تیری پناہ مانگتا ہوں) یہ (دعا) صبح کے وقت، شام کے وقت اور جب اپنے بستر پر لیٹو تو پڑھا کرو ۔“
918/1204 (صحيح) عن أبي راشد الحبراني: أتيت عبد الله بن عمرو، فقلت له : حدثنا بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فألقى إلي صحيفة، فقال: هذا ما كتب(2) لي النبي صلى الله عليه وسلم، فنظرت فيها فإذا فيها : إن أبا بكر الصديق رضي الله عنه سأل النبي صلى الله عليه وسلم قال: يا رسول الله! علمني ما أقول إذا أصبحت وإذا أمسيت. فقال: " يا أبا بكر! قل: اللهم فاطر السماوات والأرض، عالم الغيب والشهادة، رب كل شيء ومليكه، أعوذ بك من شر نفسي، ومن شر الشيطان وشركه، وأن أقترف على نفسي سوءاً، أو أجره إلى مسلم".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابوراشد حبرانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے کہا: ہمیں وہ (حدیث) بیان کیجیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، تو انہوں نے میری طرف ایک صحیفہ ڈال دیا اور فرمایا: یہ وہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھوایا۔ میں نے اس میں دیکھا تو اس میں (لکھا) تھا: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے سکھائیے کہ جب میں صبح کروں اور جب شام کروں تو کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے ابوبکر! یوں کہو: «اللهم فاطر السماوات والأرض، عالم الغيب والشهادة، رب كل شيء ومليكه، أعوذ بك من شر نفسي، ومن شر الشيطان وشركه، وأن أقترف على نفسي سوءاً، أو أجره إلى مسلم» (اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کو جاننے والے، ہر چیز کے رب اور اس کے مالک! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے، اور اس بات سے کہ میں اپنی جان پر کوئی برائی کر بیٹھوں یا اسے کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں) ۔“