822/1074 (صحيح موقوف) عن عبد الله [ هو ابن مسعود] قال: "إذا دعي الرجل فقد أذن له".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا : ”جب آدمی کو بلایا جائے تو (یہی) اس کے لیے اجازت ہے ۔“
823/1057 (صحيح) عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إذا دعي أحدكم، فجاء مع الرسول، فهو إذنه".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تم میں سے کسی کو بلایا جائے اور وہ بلانے والے قاصد کے ساتھ ہی آ جائے تو یہی اس کی اجازت ہے ۔“
824/1076 (صحيح) عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " رسول الرجل إلى الرجل إذنه".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”آدمی کا دوسرے آدمی کی طرف (بھیجا ہوا) قاصد ہی اس کی اجازت ہے ۔“
825/1077 (صحيح) عن أبي العلانية(1) قال: أتيت أبا سعيد الخدري، فسلمت، فلم يؤذن لي، ثم سلمت، فلم يؤذن لي، ثم سلمت الثالثة فرفعت صوتي، وقلت: السلام عليكم يا أهل الدار! فلم يؤذن لي، فتنحيت ناحية فقعدت، فخرج إلي غلام، فقال: ادخل، فدخلتُ، فقال لي أبو سعيد: "أما إنك لو زدت لم يؤذن لك". فسألته عن الأوعية(2)؟ فلم أسأله عن شيء، إلا قال: "حرام"، حتى سألته عن الجف(3)؟ فقال: "حرام". فقال محمد(4): "يتخذ على رأسه إذمٌ، فيوكأ".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو العلانیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے سلام کیا تو مجھے اجازت نہ ملی، پھر سلام کیا تو اجازت نہ ملی، پھر تیسری بار سلام کیا اور اپنی آواز بلند کی اور کہا: السلام علیکم اے گھر والو! پھر بھی مجھے اجازت نہ ملی، تو میں ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گیا۔ پھر ایک لڑکا میرے پاس باہر آیا اور کہا: اندر آ جاؤ، میں اندر گیا تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : ”سنو! اگر تم (تین بار سے) زیادہ (اجازت مانگتے) تو تمہیں اجازت نہ دی جاتی ۔“ پھر میں نے ان سے (نبیذ کے) برتنوں کے بارے میں پوچھا تو میں نے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا انہوں نے فرمایا : ”حرام ہے ۔“ یہاں تک کہ میں نے ان سے جف (کھجور کے شگوفے کے غلاف سے بنے برتن) کے بارے میں پوچھا تو فرمایا : ”حرام ہے ۔“ محمد نے کہا: ”اس کے منہ پر چمڑا لگا کر اسے باندھ دیا جائے ۔“