821/1073 (صحيح لغيره) عن عبيد بن عمير(1)، عن أبي موسى قال: استأذنت على عمر، فلم يؤذن لي – ثلاثاً- فأدبرت، فأرسل إلي، فقال : يا عبد الله! اشتد عليك أن تحتبس على بابي؟ اعلم أن الناس كذلك يشتد عليهم أن يُحتبسوا على بابك. فقلت: بل استأذنت عليك ثلاثاً، فلم يؤذن لي، فرجعت [وكنا نؤمر بذلك](2). فقال: ممن سمعت هذا ؟ فقلتُ : سمعته من النبي صلى الله عليه وسلم. فقال: أسمعت من النبي صلى الله عليه وسلم ما لم نسمع؟ لئن لم تأتني على هذا ببينة لأجعلنك نكالاً! فخرجت حتى أتيت نفراً من الأنصار جلوساً في المسجد، فسألتهم؟ فقالوا: أو يشك في هذا أحد؟ فأخبرتهم ما قال عمر. فقالوا: لا يقوم معك إلا أصغرنا، فقام معي أبو سعيد الخدري- أو أبو مسعود- إلى عمر، فقال: خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم وهو يريد سعد بن عبادة حتى أتاه، فسلم، فلم يؤذن له، ثم سلم الثانية، ثم الثالثة، فلم يؤذن له، فقال: "قضينا ما علينا"، ثم رجع. فأدركه سعد، فقال: يا رسول الله! والذي بعثك بالحق ما سلمت من مرة إلا وأنا أسمع؛ وأرد عليك، ولكن أحببت أن تكثر من السلام علي وعلى أهل بيتي. فقال(3) أبو موسى: والله إن كنت لأميناً على حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال: أجل، ولكن أحببت أن أستثبت.عبید بن عمیر سے روایت ہے، وہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تین بار اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ ملی، تو میں واپس چل دیا۔ انہوں نے میری طرف (آدمی) بھیجا اور کہا: اے عبداللہ! کیا تم پر میرے دروازے پر روکا جانا گراں گزرا ؟ جان لو کہ لوگوں پر بھی اسی طرح تمہارے دروازے پر روکا جانا گراں گزرتا ہے۔ میں نے کہا: بلکہ میں نے آپ سے تین بار اجازت مانگی، مجھے اجازت نہ ملی تو میں لوٹ گیا (اور ہمیں اسی کا حکم دیا جاتا تھا)۔ انہوں نے کہا: تم نے یہ کس سے سنا ہے ؟ میں نے کہا: میں نے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ انہوں نے کہا: کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ سنا جو ہم نے نہیں سنا ؟ اگر تم اس پر میرے پاس کوئی گواہ نہ لائے تو میں تمہیں عبرت ناک سزا دوں گا! چنانچہ میں نکلا یہاں تک کہ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس آیا جو مسجد میں بیٹھے تھے، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: کیا اس میں بھی کوئی شک کرتا ہے ؟ میں نے انہیں بتایا جو عمر نے کہا تھا، تو انہوں نے کہا: تمہارے ساتھ ہم میں سے سب سے چھوٹا ہی کھڑا ہو گا۔ چنانچہ ابوسعید خدری — یا ابومسعود — میرے ساتھ اٹھ کر عمر کے پاس گئے اور کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ سعد بن عبادہ (کے ہاں جانے) کا ارادہ رکھتے تھے، یہاں تک کہ آپ ان کے پاس پہنچے، سلام کیا تو آپ کو اجازت نہ ملی، پھر دوسری بار سلام کیا، پھر تیسری بار، تو آپ کو اجازت نہ ملی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہم نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی ۔“ پھر آپ لوٹ گئے۔ سعد نے آپ کو جا لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! آپ نے جب بھی سلام کیا میں سن رہا تھا اور آپ کو جواب دے رہا تھا، لیکن میں نے چاہا کہ آپ مجھ پر اور میرے گھر والوں پر زیادہ سے زیادہ سلام کریں۔ تو ابوموسیٰ نے کہا: اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر امانت دار تھا۔ تو (عمر نے) کہا: ہاں، لیکن میں نے چاہا کہ پختہ تحقیق کر لوں ۔