❮
❯
737/957 (صحيح) عن أبي العالية؛ البراء، قال: مر بي عبد الله بن الصامت، فألقيت له كرسياً، فجلس، فقلت له: إن ابن أبي زياد قد أخر الصلاة، فما تأمر؟ فضرب فخذي ضربة- أحسبه قال: حتى أثر فيها – ثم قال: سألت [خليلي/954] أبا ذر كما سألتني فضرب فخذي كما ضربت فخذك، فقال: [أتيت النبي صلى الله عليه وسلم بوضوء، فحرك رأسه، وعض على شفتيه! قلت: بأبي أنت وأمي، آذيتك؟ قال: " لا ولكنك تدرك أمراء – أو أئمة- يؤخرون الصلاة لوقتها". فقلت: فما تأمرني؟ قال: ] " صل الصلاة لوقتها ؛ فإن أدركت معهم فصل، ولا تقل( وفي رواية : ولا تقولن) : قد صليت، فلا أصلي".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو العالیہ البراء سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن صامت میرے پاس سے گزرے تو میں نے ان کے لیے ایک کرسی ڈال دی، وہ بیٹھ گئے۔ میں نے ان سے کہا: ابن ابی زیاد نے نماز میں تاخیر کر دی ہے، آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ انہوں نے میری ران پر ایک ضرب لگائی — میرا خیال ہے انہوں نے کہا: یہاں تک کہ اس میں نشان پڑ گیا — پھر کہا: میں نے (اپنے خلیل) سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو انہوں نے میری ران پر اسی طرح مارا جیسے میں نے تمہاری ران پر مارا ہے، اور کہا: (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لے کر آیا تو آپ نے اپنا سر ہلایا اور اپنے ہونٹوں کو دانتوں سے دبایا! میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا میں نے آپ کو تکلیف دی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن تم ایسے امیروں — یا اماموں — کا زمانہ پاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے۔“ میں نے عرض کیا: تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:) ”نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا، پھر اگر تم ان کے ساتھ (نماز) پاؤ تو پڑھ لینا، اور یہ نہ کہنا (اور ایک روایت میں ہے: ہرگز یہ نہ کہنا) کہ میں نماز پڑھ چکا ہوں، اس لیے اب نہیں پڑھوں گا۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 737
738/(958/1) عن عبد الله بن عمر: أن عمر بن الخطاب انطلق مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في رهط من أصحابه قبل ابن صياد، حتى وجدوه يلعب مع الغلمان في أطمّ(1) بني مغالة، وقد قارب ابن صياد يومئذ الحلم، فلم يشعر حتى ضرب النبي صلى الله عليه وسلم ظهره بيده، ثم قال: " أتشهد أني رسول الله!". فنظر إليه : فقال: أشهد أنك رسول الأميين! قال ابن صياد: فتشهد أني رسول الله! فرصّه(2) النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال: " آمنت بالله وبرسوله"، ثم قال لابن صياد: ((ماذا ترى؟)) فقال ابن الصياد: يأتيني صادق وكاذب. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " خلط عليك الأمر". قال النبي صلى الله عليه وسلم : " إني خبئت لك خبيئاً". قال: هو الدخ. قال: " اخسأ، فلم تعدُ قدرك"(3). قال: عمر: يا رسول الله ! أتأذن لي فيه أن أضرب عنقه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " إن يك هو لا تسلط عليه، وإن لم يك هو فلا خير لك في قتله".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے صحابہ کی ایک جماعت میں ابن صیاد کی طرف گئے، یہاں تک کہ انہوں نے اسے بنو مغالہ کے قلعے کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا۔ ابن صیاد ان دنوں بلوغت کے قریب تھا۔ اسے پتا بھی نہ چلا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی پیٹھ پر مارا، پھر فرمایا: ”کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں (ان پڑھوں) کے رسول ہیں! پھر ابن صیاد نے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (زور سے) دبایا، پھر فرمایا: ”میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔“ پھر ابن صیاد سے فرمایا: ”تو کیا دیکھتا ہے؟“ ابن صیاد نے کہا: میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر معاملہ خلط ملط کر دیا گیا ہے۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرے لیے (دل میں) ایک چیز چھپائی ہے۔“ اس نے کہا: وہ دخ (دھواں) ہے۔ آپ نے فرمایا: ”دور ہو، تو اپنی حیثیت سے آگے ہرگز نہیں بڑھ سکتا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ وہی (دجال) ہے تو تمہیں اس پر قابو نہیں دیا جائے گا، اور اگر یہ وہ نہیں تو اسے قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 738
739/(958/2)- قال عبد الله بن عمر : انطلق بعد ذلك النبي صلى الله عليه وسلم هو وأبي بن كعب الأنصاري يوماً إلى النخل التي فيها ابن صياد، حتى إذا دخل النبي صلى الله عليه وسلم طفق النبي صلى الله عليه وسلم يتقي بجذوع النخل، وهو يسمع من ابن صياد شيئاً قبل أن يراه، وابن صياد مضطجع على فراشه في قطيفة له فيها زمزمة(4) فرأت أم ابن صياد النبي صلى الله عليه وسلم وهو يتقي بجذوع النخل، فقالت لابن صياد: أين صاف! (وهو اسمه)هذا محمد، فتناهى ابن صياد. قال النبي صلى الله عليه وسلم : " لو تركته لبين"(5).
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کے بعد ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کھجور کے ان درختوں کی طرف گئے جن میں ابن صیاد تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم (باغ میں) داخل ہوئے تو کھجور کے تنوں کی اوٹ لینے لگے، آپ چاہتے تھے کہ اس سے پہلے کہ ابن صیاد آپ کو دیکھے، آپ اس کی کوئی بات سن لیں۔ ابن صیاد اپنے بستر پر ایک چادر میں لیٹا ہوا تھا جس میں سے کچھ گنگناہٹ (کی آواز آ رہی) تھی۔ ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے تنوں کی اوٹ لیتے ہوئے دیکھ لیا تو ابن صیاد سے کہا: اے صاف! (یہ اس کا نام تھا) یہ محمد ہیں۔ تو ابن صیاد رک گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دیتی تو وہ (اپنی حقیقت) ظاہر کر دیتا۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 739
740/(958/3 ) (صحيح) قال عبد الله : قام النبي صلى الله عليه وسلم في الناس، فأثنى على الله بما هو أهله، ثم ذكر الدجال فقال: "إني أنذركموه وما من نبي إلا وقد أنذر قومه، لقد أنذر نوحٌ قومه، ولكن سأقول لكم فيه قولاً لم يقله نبي لقومه: تعلمون أنه أعور، وأن الله ليس بأعور".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی وہ ثنا بیان کی جس کا وہ اہل ہے، پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: ”میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں، اور کوئی نبی ایسا نہیں جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو، نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا، لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی: تم جان لو کہ وہ کانا ہے، اور اللہ کانا نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 740
741/959 (صحيح الإسناد) عن جابر قال: " كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا كان جنباً، يصب على رأسه ثلاث حفنات من ماء". قال الحسن بن محمد(6): أنا عبد لله! إن شعري أكثر من ذاك! قال: وضرب[ جابر] بيده على فخذ الحسن فقال: يا ابن أخي! كان شَعرُ النبي صلى الله عليه وسلم أكثر من شعرك وأطيب.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب جنبی ہوتے تو اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے۔“ حسن بن محمد نے کہا: اے ابو عبداللہ! میرے بال تو اس سے زیادہ ہیں! (راوی نے) کہا: تو (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے) اپنا ہاتھ حسن کی ران پر مارا اور فرمایا: اے بھتیجے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تمہارے بالوں سے زیادہ بھی تھے اور زیادہ پاکیزہ بھی۔
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 741