❮
❯
حدیث نمبر: 738
738/(958/1) عن عبد الله بن عمر: أن عمر بن الخطاب انطلق مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في رهط من أصحابه قبل ابن صياد، حتى وجدوه يلعب مع الغلمان في أطمّ(1) بني مغالة، وقد قارب ابن صياد يومئذ الحلم، فلم يشعر حتى ضرب النبي صلى الله عليه وسلم ظهره بيده، ثم قال: " أتشهد أني رسول الله!". فنظر إليه : فقال: أشهد أنك رسول الأميين! قال ابن صياد: فتشهد أني رسول الله! فرصّه(2) النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال: " آمنت بالله وبرسوله"، ثم قال لابن صياد: ((ماذا ترى؟)) فقال ابن الصياد: يأتيني صادق وكاذب. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " خلط عليك الأمر". قال النبي صلى الله عليه وسلم : " إني خبئت لك خبيئاً". قال: هو الدخ. قال: " اخسأ، فلم تعدُ قدرك"(3). قال: عمر: يا رسول الله ! أتأذن لي فيه أن أضرب عنقه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " إن يك هو لا تسلط عليه، وإن لم يك هو فلا خير لك في قتله".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے صحابہ کی ایک جماعت میں ابن صیاد کی طرف گئے، یہاں تک کہ انہوں نے اسے بنو مغالہ کے قلعے کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا۔ ابن صیاد ان دنوں بلوغت کے قریب تھا۔ اسے پتا بھی نہ چلا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی پیٹھ پر مارا، پھر فرمایا: ”کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں (ان پڑھوں) کے رسول ہیں! پھر ابن صیاد نے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (زور سے) دبایا، پھر فرمایا: ”میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔“ پھر ابن صیاد سے فرمایا: ”تو کیا دیکھتا ہے؟“ ابن صیاد نے کہا: میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر معاملہ خلط ملط کر دیا گیا ہے۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرے لیے (دل میں) ایک چیز چھپائی ہے۔“ اس نے کہا: وہ دخ (دھواں) ہے۔ آپ نے فرمایا: ”دور ہو، تو اپنی حیثیت سے آگے ہرگز نہیں بڑھ سکتا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ وہی (دجال) ہے تو تمہیں اس پر قابو نہیں دیا جائے گا، اور اگر یہ وہ نہیں تو اسے قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 738