735/955 (صحيح) عن علي رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم طرقَه(1) وفاطمة بنت النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: " ألا تصلون؟. فقلت يا رسول الله! إنما أنفسنا عند الله، فإذا شاء أن يبعثنا بعثنا! فانصرف النبي صلى الله عليه وسلم- ولم يرجع إلي شيئاً. ثم سمعت وهو مدبر يضرب فخذه، يقول: ?وكان الإنسان أكثر شيء جدلاً?[الكهف: 54](2).
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم (تہجد کی) نماز نہیں پڑھتے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری جانیں تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر میں نے سنا کہ آپ پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے اپنی ران پر ہاتھ مار رہے تھے اور فرما رہے تھے: «وكان الإنسان أكثر شيء جدلا» ”اور انسان سب سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔“ [الکہف: 54]
736/956 (صحيح) عن أبي هريرة، قال: رأيته يضرب جبهته بيده، ويقول: يا أهل العراق! أتزعمون أني أكذب على رسول الله صلى الله عليه وسلم! أيكون لكم المهنأ وعلي المأثم؟ أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إذا انقطع شعس [نعل أحدكم، فلا يمشي في نعله الأخرى حتى يصلحه".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، (راوی نے) کہا: میں نے انہیں دیکھا کہ وہ اپنی پیشانی پر ہاتھ مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اے اہل عراق! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتا ہوں؟ کیا تمہارے لیے آسانی ہو اور مجھ پر گناہ؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ دوسرے جوتے میں نہ چلے یہاں تک کہ اسے درست کر لے۔“