739/(958/2)- قال عبد الله بن عمر : انطلق بعد ذلك النبي صلى الله عليه وسلم هو وأبي بن كعب الأنصاري يوماً إلى النخل التي فيها ابن صياد، حتى إذا دخل النبي صلى الله عليه وسلم طفق النبي صلى الله عليه وسلم يتقي بجذوع النخل، وهو يسمع من ابن صياد شيئاً قبل أن يراه، وابن صياد مضطجع على فراشه في قطيفة له فيها زمزمة(4) فرأت أم ابن صياد النبي صلى الله عليه وسلم وهو يتقي بجذوع النخل، فقالت لابن صياد: أين صاف! (وهو اسمه)هذا محمد، فتناهى ابن صياد. قال النبي صلى الله عليه وسلم : " لو تركته لبين"(5).سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کے بعد ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کھجور کے ان درختوں کی طرف گئے جن میں ابن صیاد تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم (باغ میں) داخل ہوئے تو کھجور کے تنوں کی اوٹ لینے لگے، آپ چاہتے تھے کہ اس سے پہلے کہ ابن صیاد آپ کو دیکھے، آپ اس کی کوئی بات سن لیں۔ ابن صیاد اپنے بستر پر ایک چادر میں لیٹا ہوا تھا جس میں سے کچھ گنگناہٹ (کی آواز آ رہی) تھی۔ ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے تنوں کی اوٹ لیتے ہوئے دیکھ لیا تو ابن صیاد سے کہا: اے صاف! (یہ اس کا نام تھا) یہ محمد ہیں۔ تو ابن صیاد رک گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دیتی تو وہ (اپنی حقیقت) ظاہر کر دیتا۔“