682/883 عن أنس بن مالك قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسير له، فحدا الحادي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " ارفق يا أنجشة – ويحك – بالقوارير".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے، حدی خواں نے حدی پڑھی (اور اونٹ تیز چلنے لگے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انجشہ! تجھ پر افسوس، شیشوں (یعنی عورتوں) کے ساتھ نرمی کرو۔“
683/884 عن عمر ( فيما أرى، شك أبي) (1) أنه قال: " حسب امرئ من الكذب أن يحدث بكل ما سمع".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (میرا خیال ہے کہ یہ سیدنا عمر ہی سے ہے، اس میں میرے والد کو شک ہے) کہ انہوں نے فرمایا: ”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے۔“
684/884م- قال: وفيما أرى قال : قال عمر: "أما في المعاريض ما يكفي المسلم [من](2) الكذب؟".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
راوی نے کہا: اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا توریہ (ذو معنی گفتگو) میں اتنی گنجائش نہیں جو مسلمان کو جھوٹ سے بے نیاز کر دے؟“