حدیث نمبر: 685
685/886 عن عمرو بن العاص قال: " عجبت من الرجل يفرّ من القدر، وهو مواقعه! ويرى القذاة في عين أخيه، ويدع الجذع في عينه! ويخرج الضغن من نفس أخيه، ويدع الضغن في نفسه! وما وضعت سرّي عند أحد فلمتُه على إفشاءه، وكيف ألومه وقد ضقت به ذراعاً؟".ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”مجھے اس آدمی پر تعجب ہوتا ہے جو تقدیر سے بھاگتا ہے حالانکہ وہ اس سے دوچار ہونے والا ہے! اور وہ اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا تو دیکھ لیتا ہے مگر اپنی آنکھ کا شہتیر چھوڑ دیتا ہے! اور اپنے بھائی کے دل سے کینہ نکالتا ہے مگر اپنے دل کا کینہ چھوڑ دیتا ہے! اور میں نے جب کبھی اپنا راز کسی کے پاس رکھا تو اسے افشا کرنے پر کبھی اسے ملامت نہیں کی، اور میں اسے کیسے ملامت کروں جبکہ میں خود اس (راز کو سنبھالنے) سے تنگ آ گیا تھا؟“