کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: شوہروں اور یتیموں پر صدقہ کرنے والی خاتون کے لیے دوگنا اجر ہے
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة السُّلَمِي، حدثنا يحيى بن يحيى التَّميمي، أخبرنا جَرِير عن منصور بن المُعتمِر قال: سمعتُ ذَرًّا يحدِّث عن وائل بن مَهَانة، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ: "يا معشرَ النساء، تَصدَّقن ولو من حُليّكُنَّ، فإنكُنَّ أكثرُ أهلِ جهنَّم يومَ القيامة" (2).
حافظ طلحہ بابر
وائل بن مہانہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو خواہ اپنے زیورات ہی میں سے ہو، کیونکہ قیامت کے دن جہنم میں تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔“
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأُمَوي إملاءً، حدثنا أبو عمر أحمد ابن عبد الجبار بن عُمير (3) التَّميمي بالكوفة، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن شَقِيق، عن عمرو بن الحارث بن المُصطَلِق، عن ابن أخي زينبَ امرأةِ عبد الله، عن زينبَ قالت: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ، فقال: "يا معشر النساء، تَصدَّقن ولو من حُليِّكُنَّ، فإنكنَّ أكثرُ أهلِ جهنَّمَ يومَ القيامة". قالت: وكان عبد الله رجلًا خفيفَ ذاتِ اليد، وكان رسول الله ﷺ قد أُلقِيَ عليه المَهابةُ، فقلت له: سَلْ لي رسول الله ﷺ: أيُجزئُ عني من الصدقة النفقةُ على زوجي وأيتامٍ لي في حِجْري؟ قال لنا أبو العباس: وذكر الحديث (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ) سے ان کے بھتیجے کے واسطے سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو خواہ اپنے زیورات ہی میں سے ہو، کیونکہ قیامت کے دن جہنم میں تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔“ سیدہ زینب فرماتی ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کم مال والے آدمی تھے اور رسول اللہ ﷺ کا بڑا رعب و دبدبہ تھا، اس لیے میں نے سیدنا عبداللہ سے کہا: ”آپ میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے پوچھیے: کیا میرا اپنے شوہر اور میری پرورش میں موجود یتیم بچوں پر خرچ کرنا میری طرف سے صدقہ شمار ہو جائے گا؟“ ابوالعباس نے ہم سے کہا: پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔
فأخبرَناه أبو بكر أحمد بن جعفر بن حَمْدان الزاهد من أصل كتابه، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أَبي، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن شَقيق، عن عمرو بن الحارث بن المُصطلِق، عن ابن أخي زينبَ امرأةِ عبد الله، عن زينبَ قالت: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ فقال: "يا معشرَ النساء، تصدَّقن ولو من حُليِّكُنَّ، فإنكنَّ أكثر أهل جهنَّم يومَ القيامة". قالت: وكان عبد الله رجلًا خفيفَ ذاتِ اليد فقلت له: سَلْ لي رسولَ الله ﷺ: أيُجزئُ عني من الصدقة النفقةُ على زوجي وأيتامٍ في حِجْري؟ قالت: وكان رسول الله ﷺ قد أُلقِيتَ عليه المَهابةُ، فقال لي عبد الله: اذهبي فسَلِيه، قالت: فانطلقتُ فانتهيتُ إلى الباب، فإذا عليه امرأةٌ من الأنصار حاجتُها كحاجَتي، قالت: فخرج إلينا بلالٌ فقلنا له: سَلْ لنا رسولَ الله ﷺ: أتُجزئُ عنا من الصدقة النفقةُ على أزواجنا وعلى أيتامٍ في حِجْرنا؟ قالت: فدخل عليه بلالٌ، فقال: على الباب زينبُ، قال: "أيُّ الزَّيانبِ؟ " فقال: زينبُ امرأةُ عبد الله، وزينبُ امرأةٌ من الأنصار، يَسألانِك عن النفقة على أزواجهما وأيتامٍ في حُجورِهما: أيُجزئُ ذلك عنهما من الصَّدقة؟ قالت: فخرج إلينا بلالٌ، فقال: قال رسول الله ﷺ: "لهما أَجْرانِ: أَجرُ القَرَابة، وأجرُ الصَّدقة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وتفرَّد مسلم ﵀ بإخراجه مختصرًا!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8784 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وتفرَّد مسلم ﵀ بإخراجه مختصرًا!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8784 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے (سابقہ سند کے ساتھ) روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو خواہ اپنے زیورات ہی میں سے ہو، کیونکہ قیامت کے دن جہنم میں تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کم مال والے آدمی تھے، تو میں نے ان سے کہا: ”آپ میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے پوچھیے: کیا میرا اپنے شوہر اور میری پرورش میں موجود یتیم بچوں پر خرچ کرنا میری طرف سے صدقہ شمار ہو جائے گا؟“ سیدہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کا بڑا رعب و دبدبہ تھا، اس لیے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”تم خود جا کر آپ ﷺ سے پوچھ لو۔“ وہ فرماتی ہیں: چنانچہ میں چل پڑی اور آپ ﷺ کے دروازے پر پہنچی، تو وہاں انصار کی ایک عورت بھی موجود تھی جس کا سوال بھی میرے سوال جیسا تھا۔ وہ فرماتی ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس نکل کر آئے تو ہم نے ان سے کہا: ”آپ ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ سے پوچھیے: کیا ہمارا اپنے شوہروں اور ہماری پرورش میں موجود یتیم بچوں پر خرچ کرنا ہماری طرف سے صدقہ شمار ہو جائے گا؟“ سیدہ فرماتی ہیں: تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”دروازے پر زینب آئی ہے۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کون سی زینب؟“ انہوں نے عرض کی: ”عبداللہ کی بیوی زینب اور ایک انصاری عورت زینب ہیں، وہ آپ سے اپنے شوہروں اور اپنی پرورش میں موجود یتیم بچوں پر خرچ کرنے کے متعلق پوچھ رہی ہیں کہ کیا ان کا یہ خرچ کرنا ان کی طرف سے صدقہ شمار ہو جائے گا؟“ سیدہ فرماتی ہیں: تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس نکل کر آئے اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”ان دونوں کے لیے دو اجر ہیں: ایک قرابت داری کا اجر اور دوسرا صدقے کا اجر۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے مختصراً روایت کرنے میں تفرد اختیار کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے مختصراً روایت کرنے میں تفرد اختیار کیا ہے۔
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن فراس الفقيه بمكة حَرَسَها الله، حدثنا بكر بن سهل الدِّمْياطي، حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا سعيد بن عبد العزيز التَّنُوخي، عن زياد بن أبي سَوْدة قال: كان عبادةُ بن الصامت على سور بيتِ المَقدِس الشَّرقي يَبكي، فقال بعضهم: ما يبكيك يا أبا الوليد؟ فقال: من هاهنا أخبرنا رسولُ الله ﷺ أنه رأى جهنَّمَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8785 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8785 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
زیاد بن ابی سودہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیت المقدس کی مشرقی دیوار پر رو رہے تھے، تو ان میں سے کسی نے پوچھا: اے ابوالولید! آپ کو کس چیز نے رلایا؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اسی جگہ سے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خبر دی تھی کہ آپ نے جہنم کو دیکھا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔