کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جنت میں رہنے والوں میں عورتوں کی تعداد سب سے کم ہوگی
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عَمْرَوَيهِ الصَّفّار ببغداد، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا شُعبة، عن أبي التَّيَّاح قال: سمعت مُطرّفًا يحدِّث: أنه كانت له امرأتان فجاء إلى إحداهما، قال: فجَعَلَت تَنزِعُ عِمامتَه وقالت: جئتَ من عندِ امرأتِك؟ فقال: جئتُ من عند عمران بن حُصَين؛ يحدِّث عن النبي ﷺ أنه قال: "أقلُّ ساكِنِي الجنةِ النساءُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8780 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابوتیاح سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے مطرف کو بیان کرتے ہوئے سنا، ان کی دو بیویاں تھیں، وہ اپنی ایک بیوی کے پاس آئے تو وہ ان کا عمامہ اتارنے لگی اور کہنے لگی: ”کیا آپ اپنی (دوسری) بیوی کے پاس سے آئے ہیں؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس سے آیا ہوں، وہ نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بیان کر رہے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں عورتوں کی تعداد سب سے کم ہوگی۔““
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا!
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8994
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8994] [ترقيم الشركة 8886] [ترقيم العلميه 8780]
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا أبو جعفر الخَطْمي، عن عُمارة ابن خُزَيمة بن ثابت قال: كنا مع عمرو بن العاص في حجٍّ أو عُمرةٍ، فلما كنا بمَرِّ الظَّهْرانِ إذا نحن بامرأة في هَودجِها واضعةً يدَها على هَودجِها، فلما نَزَلَ الشِّعبَ إذا نحن بغِرْبانٍ كثيرةٍ فيها غُرابٌ أعصمُ (2) أحمرُ المِنقار والرِّجلين، فقال: قال رسول الله ﷺ: "لا يدخلُ الجنةَ من النساء إلَّا مثل هذا الغُراب في هذه الغِرْبان" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8781 - على شرط ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عمارہ بن خزیمہ بن ثابت سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج یا عمرہ کے سفر میں تھے۔ جب ہم مرالظہران کے مقام پر پہنچے تو ہم نے ایک عورت کو اس کے ہودج (اونٹ کے کجاوے) میں دیکھا جس نے اپنا ہاتھ ہودج پر رکھا ہوا تھا۔ پھر جب ہم ایک گھاٹی میں اترے تو ہم نے وہاں بہت سے کوے دیکھے جن میں ایک سرخ چونچ اور سرخ ٹانگوں والا چتکبرا کوا بھی تھا۔ تو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”عورتوں میں سے کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگی سوائے اس عورت کے جس کی مثال ان (سیاہ) کووں میں اس چتکبرے کوے جیسی ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8995
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو جعفر الخطمي: هو عمير بن يزيد بن عمير الأنصاري» [ترقيم الرساله 8995] [ترقيم الشركة 8887] [ترقيم العلميه 8781]
حدثنا عبد الرحمن بن الحسن بن أحمد بن محمد بن عُبيدٍ الأَسَدي، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، حدثنا أبو جعفر الخَطْمي، عن عُمَارة بن خُزَيمة بن ثابت قال: كنا مع عمرو بن العاص في حجٍّ أو عُمرة، فإذا امرأةٌ في يدها خواتيمُها وقد وَضَعَت يدها على هَودجِها، فدخل عمرو بن العاص شِعْبًا، ثم قال: كنا مع رسول الله ﷺ في هذا الشِّعب، فإذا غِربانٌ كثيرةٌ، وإذا غرابٌ أعصَمُ أحمرُ المِنْقارِ والرَّجلين، فقال رسول الله ﷺ: "لا يدخلُ الجنةَ من النساء إلَّا كقَدْرِ هذا الغُراب في هذه الغِرْبان" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
عمارہ بن خزیمہ بن ثابت سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج یا عمرہ میں تھے، اچانک ایک عورت نظر آئی جس کے ہاتھ میں انگوٹھیاں تھیں اور اس نے اپنا ہاتھ اپنے ہودج پر رکھا ہوا تھا۔ پھر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ایک گھاٹی میں داخل ہوئے، تو انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس گھاٹی میں تھے، تو وہاں بہت سے کوے تھے، اور ان میں ایک سرخ چونچ اور سرخ ٹانگوں والا چتکبرا کوا بھی تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں میں سے جنت میں صرف اتنی ہی عورتیں داخل ہوں گی جتنا کہ ان کووں میں اس چتکبرے کوے کا تناسب ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8996
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، عبد الرحمن بن الحسن شيخ المصنف ضعيف، لكنه لم ينفرد به، ومن فوقه ثقات» [ترقيم الرساله 8996] [ترقيم الشركة 8888]
حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرو من أصل كتابه، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن منصور، عن ذرٍّ، عن وائل بن مَهَانةَ التَّيْمي، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ: "يا معشرَ النساءِ، تَصدَّقنَ ولو من حُلِيِّكُنَّ، فإنكنَّ أكثرُ أهل جهنَّم" [فقالت امرأةٌ ليست من عِلْية النساء: وبِمَ يا رسول الله نحن أكثر أهل جهنم؟] (2) قال: "لأنكنَّ تُكثِرنَ اللَّعْنَ، وتَكْفُرنَ العَشِيرَ، وما رأيتُ من ناقصات عقلٍ ودينٍ أغلب للُبِّ الرجل منكنَّ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه جرير بن عبد الحميد عن منصور (1) بزيادة ألفاظ فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8783 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، خواہ اپنے زیورات ہی میں سے ہو، کیونکہ جہنم میں تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔“ ایک عام سی عورت نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہماری تعداد جہنم میں سب سے زیادہ کیوں ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس لیے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو، اور میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود کسی مردِ عاقل کی عقل کو تم سے زیادہ مغلوب کر دینے والا کوئی نہیں دیکھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اسے جریر بن عبدالحمید نے منصور سے کچھ زائد الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8997
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن إن شاء الله من أجل وائل بن مهانة» [ترقيم الرساله 8997] [ترقيم الشركة 8889] [ترقيم العلميه 8783]