المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
لِلْمُصَدِّقَةِ عَلَى الْأَزْوَاجِ وَالْأَيْتَامِ أَجْرَانِ باب: شوہروں اور یتیموں پر صدقہ کرنے والی خاتون کے لیے دوگنا اجر ہے
حدیث نمبر: 9000
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن فراس الفقيه بمكة حَرَسَها الله، حدثنا بكر بن سهل الدِّمْياطي، حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا سعيد بن عبد العزيز التَّنُوخي، عن زياد بن أبي سَوْدة قال: كان عبادةُ بن الصامت على سور بيتِ المَقدِس الشَّرقي يَبكي، فقال بعضهم: ما يبكيك يا أبا الوليد؟ فقال: من هاهنا أخبرنا رسولُ الله ﷺ أنه رأى جهنَّمَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8785 - صحيححافظ طلحہ بابر
زیاد بن ابی سودہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیت المقدس کی مشرقی دیوار پر رو رہے تھے، تو ان میں سے کسی نے پوچھا: اے ابوالولید! آپ کو کس چیز نے رلایا؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اسی جگہ سے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خبر دی تھی کہ آپ نے جہنم کو دیکھا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله ثقات غير بكر بن سهل الدمياطي فإنه ضعيف، إلَّا أنه لم ينفرد به، فقد روي هذا الخبر من غير وجه عن سعيد بن عبد العزيز عن زياد بن أبي سودة، وزياد هذا روايته عن عبادة مرسلة كما سلف بيانه وتخريجه عند الرواية المتقدمة برقم (3828).
درجۂ حدیث: (1) اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے بکر بن سہل الدمیاطی کے کیونکہ وہ ضعیف ہیں، تاہم وہ اس میں منفرد نہیں ہیں؛ کیونکہ یہ خبر متعدد طریقوں سے سعید بن عبدالعزیز سے، (وہ) زیاد بن ابی سودہ سے مروی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اور یہ زیاد جو ہیں ان کی عبادہ (بن صامت) سے روایت "مرسل" (منقطع) ہے، جیسا کہ روایت نمبر (3828) کے تحت اس کا بیان اور تخریج گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے بکر بن سہل الدمیاطی کے کیونکہ وہ ضعیف ہیں، تاہم وہ اس میں منفرد نہیں ہیں؛ کیونکہ یہ خبر متعدد طریقوں سے سعید بن عبدالعزیز سے، (وہ) زیاد بن ابی سودہ سے مروی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اور یہ زیاد جو ہیں ان کی عبادہ (بن صامت) سے روایت "مرسل" (منقطع) ہے، جیسا کہ روایت نمبر (3828) کے تحت اس کا بیان اور تخریج گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 9000 سے ماخوذ ہے۔