حدیث نمبر: 8999M
فأخبرَناه أبو بكر أحمد بن جعفر بن حَمْدان الزاهد من أصل كتابه، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أَبي، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن شَقيق، عن عمرو بن الحارث بن المُصطلِق، عن ابن أخي زينبَ امرأةِ عبد الله، عن زينبَ قالت: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ فقال: "يا معشرَ النساء، تصدَّقن ولو من حُليِّكُنَّ، فإنكنَّ أكثر أهل جهنَّم يومَ القيامة". قالت: وكان عبد الله رجلًا خفيفَ ذاتِ اليد فقلت له: سَلْ لي رسولَ الله ﷺ: أيُجزئُ عني من الصدقة النفقةُ على زوجي وأيتامٍ في حِجْري؟ قالت: وكان رسول الله ﷺ قد أُلقِيتَ عليه المَهابةُ، فقال لي عبد الله: اذهبي فسَلِيه، قالت: فانطلقتُ فانتهيتُ إلى الباب، فإذا عليه امرأةٌ من الأنصار حاجتُها كحاجَتي، قالت: فخرج إلينا بلالٌ فقلنا له: سَلْ لنا رسولَ الله ﷺ: أتُجزئُ عنا من الصدقة النفقةُ على أزواجنا وعلى أيتامٍ في حِجْرنا؟ قالت: فدخل عليه بلالٌ، فقال: على الباب زينبُ، قال: "أيُّ الزَّيانبِ؟ " فقال: زينبُ امرأةُ عبد الله، وزينبُ امرأةٌ من الأنصار، يَسألانِك عن النفقة على أزواجهما وأيتامٍ في حُجورِهما: أيُجزئُ ذلك عنهما من الصَّدقة؟ قالت: فخرج إلينا بلالٌ، فقال: قال رسول الله ﷺ: "لهما أَجْرانِ: أَجرُ القَرَابة، وأجرُ الصَّدقة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وتفرَّد مسلم ﵀ بإخراجه مختصرًا!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8784 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے (سابقہ سند کے ساتھ) روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو خواہ اپنے زیورات ہی میں سے ہو، کیونکہ قیامت کے دن جہنم میں تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کم مال والے آدمی تھے، تو میں نے ان سے کہا: ”آپ میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے پوچھیے: کیا میرا اپنے شوہر اور میری پرورش میں موجود یتیم بچوں پر خرچ کرنا میری طرف سے صدقہ شمار ہو جائے گا؟“ سیدہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کا بڑا رعب و دبدبہ تھا، اس لیے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”تم خود جا کر آپ ﷺ سے پوچھ لو۔“ وہ فرماتی ہیں: چنانچہ میں چل پڑی اور آپ ﷺ کے دروازے پر پہنچی، تو وہاں انصار کی ایک عورت بھی موجود تھی جس کا سوال بھی میرے سوال جیسا تھا۔ وہ فرماتی ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس نکل کر آئے تو ہم نے ان سے کہا: ”آپ ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ سے پوچھیے: کیا ہمارا اپنے شوہروں اور ہماری پرورش میں موجود یتیم بچوں پر خرچ کرنا ہماری طرف سے صدقہ شمار ہو جائے گا؟“ سیدہ فرماتی ہیں: تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”دروازے پر زینب آئی ہے۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کون سی زینب؟“ انہوں نے عرض کی: ”عبداللہ کی بیوی زینب اور ایک انصاری عورت زینب ہیں، وہ آپ سے اپنے شوہروں اور اپنی پرورش میں موجود یتیم بچوں پر خرچ کرنے کے متعلق پوچھ رہی ہیں کہ کیا ان کا یہ خرچ کرنا ان کی طرف سے صدقہ شمار ہو جائے گا؟“ سیدہ فرماتی ہیں: تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس نکل کر آئے اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”ان دونوں کے لیے دو اجر ہیں: ایک قرابت داری کا اجر اور دوسرا صدقے کا اجر۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے مختصراً روایت کرنے میں تفرد اختیار کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8999M
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،على وهمٍ فيه كما سبق» [ترقيم الرساله 8999M] [ترقيم الشركة 8890] [ترقيم العلميه 8784]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح على وهمٍ فيه كما سبق. وهو في "مسند أحمد" 44/ (27048).
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے باوجود اس وہم کے جو اس میں ہے جیسا کہ گزر چکا۔
حوالہ / مصدر: اور یہ "مسند احمد" (27048/44) میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1734)، والترمذي (635)، والنسائي (9156)، وابن حبان (4248) من طرق عن أبي معاوية، بهذا الإسناد. وبعضهم اختصره.
حوالہ / مصدر: اور اسے ابن ماجہ (1734)، ترمذی (635)، نسائی (9156)، اور ابن حبان (4248) نے مختلف طرق سے ابو معاویہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ بعض نے اسے مختصر کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 25/ (16082)، والترمذي (636)، والنسائي (2375) و (9157) من طريق شعبة، والبخاري (1466)، ومسلم (1000) (46)، والنسائي (9158) من طريق حفص بن غياث، ومسلم (1000) (45) من طريق أبي الأحوص سلام بن سليم، ثلاثتهم عن الأعمش، عن شقيق، عن عمرو بن الحارث، عن زينب بطوله - دون قوله: "فإنكن أكثر أهل جهنم يوم القيامة"، فقد تفرَّد بها أبو معاوية عن الأعمش.
حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (16082/25)، ترمذی (636)، اور نسائی (2375 و 9157) نے شعبہ کے طریق سے؛ اور بخاری (1466)، مسلم (1000-46)، اور نسائی (9158) نے حفص بن غیاث کے طریق سے؛ اور مسلم (1000-45) نے ابو الاحوص سلام بن سلیم کے طریق سے؛ ان تینوں نے اعمش سے، انہوں نے شقیق سے، انہوں نے عمرو بن الحارث سے، اور انہوں نے زینب سے طویل روایت کیا ہے — سوائے آپ ﷺ کے اس قول کے: "کیونکہ قیامت کے دن تم (عورتیں) جہنم والوں کی اکثریت ہو گی"، اس ٹکڑے کو بیان کرنے میں ابو معاویہ اعمش سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8999 سے ماخوذ ہے۔