کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اس دیوار (سور) کا تذکرہ جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا ہے
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن فِراس المالكي الفقيه بمكة - حَرَسَها الله - في المسجد الحرام، حدثنا بكر بن سهل الدِّمياطي، حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا سعيد بن عبد العزيز، عن عَطيَّة بن قيس، عن أبي العوَّام مؤذِّن بيت المَقدِس، قال: سمعتُ عبد عبد الله بن عمرو يقول: إِنَّ السُّور الذي ذَكَرَه الله في القرآن: ﴿فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ﴾ [الحديد:13]، وهو السور الشَّرقي، باطنُه المسجدُ وما يَليهِ، وظاهرُه وادي جهنَّم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8776 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8776 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
بیت المقدس کے مؤذن ابوالعوام سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک وہ دیوار جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: ﴿فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ﴾ ”پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس کے اندرونی حصے میں رحمت ہوگی اور اس کے بیرونی حصے کی طرف عذاب ہوگا۔“ [سورة الحديد: 13] اس سے مراد مشرقی دیوار ہے، اس کے اندرونی حصے میں مسجد (اقصیٰ) اور اس سے متصل علاقہ ہے، اور اس کے بیرونی حصے میں وادیِ جہنم ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرَّاج أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد، أنَّ النبي ﷺ قال: "لو ضَرَب مِقمَعٌ من حديدِ جَهَنَّمَ الجبلَ لتفتَّتَ كما يُضرب به أهلُ النار، فصار (2) رمادًا" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8777 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8777 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر جہنم کے لوہے کا گرز (ہتھوڑا) کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ بھی اسی طرح ریزہ ریزہ ہو جائے جس طرح اس سے اہل جہنم کو مارا جائے گا، اور وہ راکھ بن جائے گا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني ﵀ بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن أبي العَنبَس، حدثنا علي بن قادِم، حدثنا شَرِيكَ، عن عُبيدٍ المُكتِبِ، عن الشَّعْبي، عن أنس بن مالك قال: ضَحِكَ رسولُ الله ﷺ ذاتَ يومٍ أو تبسَّم، فقال رسول الله ﷺ: "ألا تسألوني من أيِّ شيءٍ ضَحِكتُ؟ " فقال: "عَجِبتُ من مجادلةِ العبدِ ربَّه يومَ القيامة، يقول: يا ربّ، أليس وَعَدْتَني أن لا تَظْلِمَني؟ قال: بَلَى، قال: فإني لا أقبلُ عليَّ شهادة شاهدٍ إلَّا من نَفْسي، فيقول: أوَليس كفى بي شَهيدًا وبالملائكةِ الكِرام الكاتبين؟ قال: فيُردِّدُ هذا الكلامَ مرّاتٍ، فيُختَمُ على فِيهِ وتَكلَّمُ أَرْكَانُه بما كان يعمل فيقول: بُعْدًا لكم وسُحقًا، عنكم كنت أُجادِلُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8778 - على شرط ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8778 - على شرط ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ ہنسے یا مسکرائے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کس بات پر ہنسا ہوں؟“ پھر آپ ﷺ نے خود ہی فرمایا: ”مجھے قیامت کے دن بندے کا اپنے رب سے جھگڑنا عجیب لگا، وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں فرمایا تھا کہ تو مجھ پر ظلم نہیں کرے گا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیوں نہیں! وہ کہے گا: پس میں اپنے خلاف اپنی ذات کے سوا کسی اور کی گواہی ہرگز قبول نہیں کروں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا میری گواہی اور میرے معزز فرشتے جو اعمال لکھنے والے ہیں کافی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ بندہ یہ بات کئی بار دہرائے گا، تو اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء اس کے اعمال بول کر بتائیں گے۔ پھر وہ بندہ (اپنے اعضاء سے) کہے گا: تم پر لعنت ہو اور تم برباد ہو جاؤ! میں تو تمہاری ہی خاطر جھگڑ رہا تھا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحر بن نصر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرّاج، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لو أنَّ دَلْوَ غَسّاقِ يُهراقُ في الدنيا، لأنتَنَ أهلُ الدنيا" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8779 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8779 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر غساق (جہنمیوں کے بہتے ہوئے پیپ اور لہو) کا ایک ڈول بھی دنیا میں بہا دیا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو سے مر جائیں (یا پوری دنیا بدبودار ہو جائے)۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔