المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
أَقَلُّ سَاكِنِي الْجَنَّةِ النِّسَاءُ باب: جنت میں رہنے والوں میں عورتوں کی تعداد سب سے کم ہوگی
حدیث نمبر: 8994
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عَمْرَوَيهِ الصَّفّار ببغداد، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا شُعبة، عن أبي التَّيَّاح قال: سمعت مُطرّفًا يحدِّث: أنه كانت له امرأتان فجاء إلى إحداهما، قال: فجَعَلَت تَنزِعُ عِمامتَه وقالت: جئتَ من عندِ امرأتِك؟ فقال: جئتُ من عند عمران بن حُصَين؛ يحدِّث عن النبي ﷺ أنه قال: "أقلُّ ساكِنِي الجنةِ النساءُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8780 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
ابوتیاح سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے مطرف کو بیان کرتے ہوئے سنا، ان کی دو بیویاں تھیں، وہ اپنی ایک بیوی کے پاس آئے تو وہ ان کا عمامہ اتارنے لگی اور کہنے لگی: ”کیا آپ اپنی (دوسری) بیوی کے پاس سے آئے ہیں؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس سے آیا ہوں، وہ نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بیان کر رہے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں عورتوں کی تعداد سب سے کم ہوگی۔““
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا!
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو التياح: هو يزيد بن حميد الضُّبَعي، ومطرِّف: هو ابن عبد الله بن الشِّخّير.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ ابو التیاح سے مراد یزید بن حمید الضُّبَعی ہیں، اور مطرف سے مراد ابن عبداللہ بن الشِّخّیر ہیں۔
وأخرجه أحمد 33 / (19837) و (19986)، ومسلم (2738)، والنسائي (9222)، وابن حبان (7457) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (19837/33) اور (19986)، مسلم (2738)، نسائی (9222)، اور ابن حبان (7457) نے شعبہ سے مختلف طرق کے ذریعے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اسے (مستدرک میں) لانا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
وأخرجه أحمد (19916) من طريق حماد بن سلمة، عن أبي التياح، به.
حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (19916) نے حماد بن سلمہ کے طریق سے، ابو التیاح سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ ابو التیاح سے مراد یزید بن حمید الضُّبَعی ہیں، اور مطرف سے مراد ابن عبداللہ بن الشِّخّیر ہیں۔
وأخرجه أحمد 33 / (19837) و (19986)، ومسلم (2738)، والنسائي (9222)، وابن حبان (7457) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (19837/33) اور (19986)، مسلم (2738)، نسائی (9222)، اور ابن حبان (7457) نے شعبہ سے مختلف طرق کے ذریعے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اسے (مستدرک میں) لانا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
وأخرجه أحمد (19916) من طريق حماد بن سلمة، عن أبي التياح، به.
حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (19916) نے حماد بن سلمہ کے طریق سے، ابو التیاح سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8994 سے ماخوذ ہے۔