المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
أَقَلُّ سَاكِنِي الْجَنَّةِ النِّسَاءُ باب: جنت میں رہنے والوں میں عورتوں کی تعداد سب سے کم ہوگی
حدثنا عبد الرحمن بن الحسن بن أحمد بن محمد بن عُبيدٍ الأَسَدي، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، حدثنا أبو جعفر الخَطْمي، عن عُمَارة بن خُزَيمة بن ثابت قال: كنا مع عمرو بن العاص في حجٍّ أو عُمرة، فإذا امرأةٌ في يدها خواتيمُها وقد وَضَعَت يدها على هَودجِها، فدخل عمرو بن العاص شِعْبًا، ثم قال: كنا مع رسول الله ﷺ في هذا الشِّعب، فإذا غِربانٌ كثيرةٌ، وإذا غرابٌ أعصَمُ أحمرُ المِنْقارِ والرَّجلين، فقال رسول الله ﷺ: "لا يدخلُ الجنةَ من النساء إلَّا كقَدْرِ هذا الغُراب في هذه الغِرْبان" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
عمارہ بن خزیمہ بن ثابت سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج یا عمرہ میں تھے، اچانک ایک عورت نظر آئی جس کے ہاتھ میں انگوٹھیاں تھیں اور اس نے اپنا ہاتھ اپنے ہودج پر رکھا ہوا تھا۔ پھر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ایک گھاٹی میں داخل ہوئے، تو انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس گھاٹی میں تھے، تو وہاں بہت سے کوے تھے، اور ان میں ایک سرخ چونچ اور سرخ ٹانگوں والا چتکبرا کوا بھی تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں میں سے جنت میں صرف اتنی ہی عورتیں داخل ہوں گی جتنا کہ ان کووں میں اس چتکبرے کوے کا تناسب ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مصنف (حاکم) کے شیخ عبدالرحمٰن بن الحسن ضعیف ہیں، لیکن وہ اس روایت میں منفرد نہیں ہیں، اور ان سے اوپر والے تمام راوی ثقات ہیں۔ پچھلی حدیث ملاحظہ فرمائیں۔