حدیث نمبر: 8992
حدثنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني ﵀ بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن أبي العَنبَس، حدثنا علي بن قادِم، حدثنا شَرِيكَ، عن عُبيدٍ المُكتِبِ، عن الشَّعْبي، عن أنس بن مالك قال: ضَحِكَ رسولُ الله ﷺ ذاتَ يومٍ أو تبسَّم، فقال رسول الله ﷺ: "ألا تسألوني من أيِّ شيءٍ ضَحِكتُ؟ " فقال: "عَجِبتُ من مجادلةِ العبدِ ربَّه يومَ القيامة، يقول: يا ربّ، أليس وَعَدْتَني أن لا تَظْلِمَني؟ قال: بَلَى، قال: فإني لا أقبلُ عليَّ شهادة شاهدٍ إلَّا من نَفْسي، فيقول: أوَليس كفى بي شَهيدًا وبالملائكةِ الكِرام الكاتبين؟ قال: فيُردِّدُ هذا الكلامَ مرّاتٍ، فيُختَمُ على فِيهِ وتَكلَّمُ أَرْكَانُه بما كان يعمل فيقول: بُعْدًا لكم وسُحقًا، عنكم كنت أُجادِلُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8778 - على شرط ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ ہنسے یا مسکرائے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کس بات پر ہنسا ہوں؟“ پھر آپ ﷺ نے خود ہی فرمایا: ”مجھے قیامت کے دن بندے کا اپنے رب سے جھگڑنا عجیب لگا، وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں فرمایا تھا کہ تو مجھ پر ظلم نہیں کرے گا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیوں نہیں! وہ کہے گا: پس میں اپنے خلاف اپنی ذات کے سوا کسی اور کی گواہی ہرگز قبول نہیں کروں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا میری گواہی اور میرے معزز فرشتے جو اعمال لکھنے والے ہیں کافی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ بندہ یہ بات کئی بار دہرائے گا، تو اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء اس کے اعمال بول کر بتائیں گے۔ پھر وہ بندہ (اپنے اعضاء سے) کہے گا: تم پر لعنت ہو اور تم برباد ہو جاؤ! میں تو تمہاری ہی خاطر جھگڑ رہا تھا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8992
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد لا بأس برجاله، إلَّا أنه منقطع، فإنَّ عبيدًا المُكتب أدخل بينه وبين الشعبي فيه فضيل بن عمرو الفُقيمي كما سيأتي في غير رواية شريك» [ترقيم الرساله 8992] [ترقيم الشركة 8884] [ترقيم العلميه 8778]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد لا بأس برجاله، إلَّا أنه منقطع، فإنَّ عبيدًا المُكتب أدخل بينه وبين الشعبي فيه فضيل بن عمرو الفُقيمي كما سيأتي في غير رواية شريك - وهو ابن أبي نمر - عنه.
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے، اور اس سند کے راویوں میں کوئی حرج نہیں، سوائے اس کے کہ یہ "منقطع" ہے؛ کیونکہ عبید المکتب نے اپنے اور شعبی کے درمیان فضیل بن عمرو الفقیمی کا واسطہ داخل کیا ہے (جو یہاں مذکور نہیں)، جیسا کہ شریک —جو ابن ابی نمر ہیں— کے علاوہ دیگر کی روایت میں آئے گا۔
وأخرجه أبو يعلى (3975)، وأبو القاسم بن بشران في "أماليه" (381) من طريقين عن علي بن قادم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اور اسے ابو یعلیٰ (3975) اور ابو القاسم بن بشران نے اپنی "أمالي" (381) میں دو طریقوں سے علی بن قادم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (2969)، والنسائي (11589)، وابن حبان (7358) من طريق سفيان الثوري، عن عبيد بن مهران المكتب عن فضيل بن عمرو عن الشعبي به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اور اسے مسلم (2969)، نسائی (11589) اور ابن حبان (7358) نے سفیان ثوری کے طریق سے، عبید بن مہران المکتب سے، (انہوں نے) فضیل بن عمرو سے اور (انہوں نے) شعبی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ لہٰذا حاکم کا اسے (بطورِ مستدرک) لانا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8992 سے ماخوذ ہے۔