کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: صور پھونکنے والا فرشتہ (سیدنا اسرافیل علیہ السلام) اس انتظار میں ہے کہ اسے کب صور پھونکنے کا حکم دیا جائے
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن هشام بن مَلَّاس النُّمَيري، حدثنا مروان بن معاوية الفَزَاري، عن عُبيد الله (1) بن عبد الله بن الأصمِّ، حدثنا يزيد بن الأصمِّ، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنْ طَرَفَ صاحبُ الصُّور مدَّةَ وُكِّل به مستعدٌّ يَنظُر نحوَ العَرْش مخافةَ أن يُؤمَرَ قبل أن يَرتدَّ إِليه طَرْفُهُ، كأنَّ عينيه كوكبانِ دُرِّيَّانِ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8676 - صحيح على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب سے صور پھونکنے والے فرشتے کو اس پر مامور کیا گیا ہے، وہ بالکل تیار ہے اور اس خوف سے کہ کہیں پلک جھپکنے سے پہلے اسے حکم نہ دے دیا جائے، اس کی نظریں مسلسل عرش کی طرف لگی ہوئی ہیں، گویا اس کی دونوں آنکھیں چمکتے ہوئے دو روشن ستاروں کی مانند ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8889
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل عبيد الله بن عبد الله بن الأصم
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عبيد الله بن عبد الله بن الأصم، وكذا حسَّنه الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 20/ 297، لكن اختُلف في رفعه ووقفه» [ترقيم الرساله 8889] [ترقيم الشركة 8781] [ترقيم العلميه 8676]
أخبرني أبو الحسن علي بن محمد القرشي بالكوفة، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا أسباطُ بن محمد القُرَشي، حدثنا مُطرِّف بن طَريف الحارثي، عن عطيَّة، عن ابن عبَّاس، في قوله ﷿: ﴿فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ﴾ [المؤمنون: 101] قال رسول الله ﷺ: "كيف أَنعَمُ وصاحبُ الصُّورِ قد الْتقَمَ القَرْنَ، وَحَنَى جبهتَه، وأَصغَى بسمعِه! " قال أصحاب رسول الله ﷺ: كيف نقولُ يا رسولَ الله؟ قال: "قولوا: حَسْبُنَا الله ونِعم الوكيلُ، على الله توكَّلْنا" (1) مدارُ هذا الحديث على عطيَّة بن سعد العَوْفِي ﵀، وهو كبيرُ المَحَلِّ في أقرانه من التابعين، ولم يُخرج عنه الشيخان ﵄ في "الصحيحين".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8677 - عطية ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ﴾ [سورة المؤمنون: 101] کے متعلق روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ میں لے رکھا ہے، اپنی پیشانی جھکا دی ہے اور اپنے کان لگا دیے ہیں (کہ کب حکم ملے)!“ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم کیا کہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کہو: «حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا» ”ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے، ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا۔““
اس حدیث کا مدار عطیہ بن سعد العوفی رحمہ اللہ پر ہے اور وہ اپنے ہم عصر تابعین میں بلند مقام رکھتے ہیں، لیکن شیخین نے اپنی صحیحین میں ان سے روایت نہیں کی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8890
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف عطية» [ترقيم الرساله 8890] [ترقيم الشركة 8782] [ترقيم العلميه 8677]
وقد حدثنا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشَادَ العَدْل، قالا: حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا مُطرِّف، عن عطيَّة، عن أبي سعيد قال: قال رسول الله ﷺ: "كيف أَنعَمُ وقد الْتقَمَ صاحبُ القَرْنِ، وأَصغَى بسمعِه، وحَنَى جبينَه، يَنظُر أن يُؤمَرَ فَيَنفُخَ! " فقال المسلمون: فماذا نقولُ يا رسول الله؟ قال: "قولوا: حَسبُنا اللهُ ونِعمَ الوكيلُ، على الله توكَّلْنا" (1). وقد كَتبْناه من حديث الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیسے خوش و خرم رہ سکتا ہوں جبکہ صور والے فرشتے نے (صور) منہ میں لے رکھا ہے، اپنے کان (حکم الٰہی کی طرف) لگا رکھے ہیں اور اپنی پیشانی جھکا دی ہے، وہ اس بات کا منتظر ہے کہ اسے کب صور پھونکنے کا حکم دیا جائے!“ مسلمانوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم کیا کہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کہو: «حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا» ”ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے، ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا۔““
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8891
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح إن شاء الله
تخریج حدیث «حديث صحيح إن شاء الله، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي كما سبق، وقد توبع في الذي بعده» [ترقيم الرساله 8891] [ترقيم الشركة 8782]
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا الإمام أبو بكر بن إسحاق وعلي بن العباس البَجَلي قالا: حدثنا أبو سعيد عبد الله بن سعيد الأشجُّ، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم أبو يحيى التَّيْمي، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي سعيد، عن رسول الله ﷺ قال: "كيف أَنعَمُ وصاحبُ القَرْنِ قد التقَمَ القَرْنَ، وحَنَى جبهتَه، وأَصغى بسمعِه، ينتظرُ متى يُؤمَرُ فينفخُ! " قلنا: يا رسول الله، فكيف نقول؟ قال: "قولوا: حَسبُنا اللهُ ونِعمَ الوكيلُ، تَوَكَّلْنا على الله" (2). لم نكتبه من حديث الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيدٍ إلَّا بهذا الإسناد، ولولا أنَّ أبا يحيى التَّيْمي على الطريق لحكمتُ للحديث بالصِّحّة على شرط الشيخين ﵄. ولهذا الحديث أصلٌ من حديث زيد بن أسلمّ عن عطاء بن يَسار عن أبي سعيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8678 - أبو يحيى واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جبکہ صور والے نے صور کو اپنے منہ میں لے لیا ہے، اپنی پیشانی جھکا دی ہے اور کان لگا دیے ہیں، وہ اس انتظار میں ہے کہ اسے کب حکم دیا جائے اور وہ صور پھونک دے!“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم کیا کہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کہو: «حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، تَوَكَّلْنَا عَلَى اللهِ» ”ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے، ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا۔““
ہم نے اس حدیث کو اعمش کے واسطے سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابو سعید سے سوائے اسی سند کے کسی اور طریقے سے نہیں لکھا، اور اگر اس کی سند میں ابو یحییٰ التیمی نہ ہوتے تو میں اس حدیث کے صحیح ہونے کا حکم شیخین کی شرط پر لگا دیتا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8892
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح إن شاء الله
تخریج حدیث «حديث صحيح إن شاء الله، وهذا إسناد ضعيف لضعف إسماعيل أبي يحيى التيمي، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه" فوهّاه، ولم نقف على الحديث من طريقه عند غير المصنف، إلّا أنه قد توبع فيه» [ترقيم الرساله 8892] [ترقيم الشركة 8783] [ترقيم العلميه 8678]
حدَّثَناه عليُّ بن عيسى الحِيِري، حدثنا محمد بن عمرو بن النَّضْر بن عمرو الحَرَشي وجعفر بن محمد بن الحسين قالا: حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا خارجة، عن زيد بن أسلمَ، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال: "ما من صباحٍ إلَّا ومَلَكانِ يناديانِ، يقول أحدُهما: اللهمَّ أَعطِ مُنفِقًا خَلَفًا، ويقول الآخر: اللهمَّ أَعطِ مُمسِكًا تَلَفًا، وملكانِ مُوكَّلان بالصُّور ينتظرانِ متى يُؤْمَرانِ فيَنفخانِ، وملكان يناديانِ يقول أحدُهما ويلٌ للرجال من النساء، وويلٌ (1) للنساءِ من الرجال" (2). تفرد به خارجةُ بن مُصعَب عن زيد بن أسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8679 - خارجة ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی صبح ایسی نہیں ہوتی مگر اس میں دو فرشتے پکارتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا نعم البدل عطا فرما، اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! (مال) روک کر رکھنے والے کے مال کو ضائع و برباد کر دے، اور دو فرشتے صور پر مامور ہیں جو اس انتظار میں ہیں کہ انہیں کب حکم ملے اور وہ صور پھونکیں، اور دو فرشتے پکار کر کہتے ہیں کہ مردوں کے لیے عورتوں کی وجہ سے ہلاکت ہے اور عورتوں کے لیے مردوں کی وجہ سے ہلاکت ہے۔“
اس حدیث کو روایت کرنے میں خارجہ بن مصعب، زید بن اسلم سے منفرد ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8893
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، خارجة بن مصعب متروك، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص"» [ترقيم الرساله 8893] [ترقيم الشركة 8784] [ترقيم العلميه 8679]
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد وبِشْر بن المفضَّل قالا: حدثنا سليمان التَّيْمي، عن أسلم العِجْلي، عن بِشر بن شَغَافٍ، عن عبد الله بن عمرو: أن أعرابيًّا أَتى النبيَّ ﷺ فسأله عن الصُّور - وفي حديث يحيى بن سعيد قال: سألتُ رسولَ الله ﷺ عن الصُّور - قال: "قَرْنٌ يُنفَخُ فيه" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8680 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آپ سے ”صور“ کے متعلق سوال کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک سینگ (نما آلہ) ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8894
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8894] [ترقيم الشركة 8785] [ترقيم العلميه 8680]