کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: بے شک اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے جسموں کو کھائے
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَختَري عبد الله بن محمد بن شاكر بالكُوفة، حدثنا حسين بن علي الجُعْفيّ، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد (4) بن جابر، عن أبي الأشعث الصَّنعاني عن أَوْس بن أَوْس قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ من أفضلِ أيامِكم الجمعة، فيه خُلِقَ آدمُ، وفيه قُبِضَ، وفيه نَفْحَةُ الصُّور، وفيه الصَّعْقة، فأَكِثروا عليَّ من الصَّلاة، فإنَّ صلاتكم معروضةٌ عليَّ" قالوا: وكيف تُعرَضُ صلاتُنا عليك وقد أَرَمْتَ؟ فقال: "إنَّ الله تعالى حَرَّمَ على الأرض أن تأكلَ أجسادَ الأنبياءِ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8681 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سب (صور کی ہیبت سے) بیہوش ہوں گے، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: (آپ کی وفات کے بعد) ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ آپ کا جسدِ مبارک مٹی میں مل کر بوسیدہ ہو چکا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے اجسام کو کھانا حرام کر دیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8895
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنه قد اختلف في تعيين عبد الرحمن بن يزيد كما سلف بيانه عند الرواية رقم (1042)» [ترقيم الرساله 8895] [ترقيم الشركة 8786] [ترقيم العلميه 8681]
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حمّاد بن سلمة، عن يعلى بن عطاءٍ، عن وكيع بن حُدُس، عن عمِّه أبي رَزِين العُقيلي أنه قال: يا رسول الله، أكلُّنا يرى ربَّه يوم القيامة، وما آيةُ ذلك في خَلْقه؟ فقال رسول الله ﷺ: "أليس كلكم ينظرُ إلى القمر مُخْلِيًا؟ " فقالوا: بلى، قال: "فاللهُ أعظمُ". قال: قلت: يا رسول الله، كيف يُحْيِي الله الموتى، وما آيةُ ذلك في خَلقِه؟ قال: "أَمَا (2) مررتَ بوادي أهلِك مَحْلًا؟ " قال: بلى، قال: ثم مررت به يهتزُّ خَضِرًا؟ " قال: بلي، قال: "فكذلك يُحْيِي اللهُ الموتى، وذلك آيتُه في خلقِه" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8682 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا (قیامت کے دن) ہم سب اپنے رب کا دیدار کریں گے؟ اور اس کی مخلوقات میں اس کی کیا نشانی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر شخص چاند کو اس حال میں نہیں دیکھتا کہ وہ اکیلا ہوتا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور دیکھتے ہیں)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ تو اس سے بھی کہیں زیادہ عظمت والا ہے۔“ انہوں نے (پھر) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا اور اس کی مخلوقات میں اس کی کیا نشانی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارا گزر کبھی اپنے قبیلے کی ایسی وادی سے ہوا ہے جو خشک اور بنجر ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر کیا تم وہاں سے دوبارہ گزرے جبکہ وہ (بارش کے بعد) لہلہا رہی تھی اور سرسبز تھی؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ فرمائے گا، اور اس کی مخلوق میں (دوبارہ جی اٹھنے کی) یہی علامت ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8896
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة وكيع بن حُدُس
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة وكيع بن حُدُس، ويقال: ابن عُدُس، بالعين» [ترقيم الرساله 8896] [ترقيم الشركة 8787] [ترقيم العلميه 8682]