حدیث نمبر: 8893
حدَّثَناه عليُّ بن عيسى الحِيِري، حدثنا محمد بن عمرو بن النَّضْر بن عمرو الحَرَشي وجعفر بن محمد بن الحسين قالا: حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا خارجة، عن زيد بن أسلمَ، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال: "ما من صباحٍ إلَّا ومَلَكانِ يناديانِ، يقول أحدُهما: اللهمَّ أَعطِ مُنفِقًا خَلَفًا، ويقول الآخر: اللهمَّ أَعطِ مُمسِكًا تَلَفًا، وملكانِ مُوكَّلان بالصُّور ينتظرانِ متى يُؤْمَرانِ فيَنفخانِ، وملكان يناديانِ يقول أحدُهما ويلٌ للرجال من النساء، وويلٌ (1) للنساءِ من الرجال" (2). تفرد به خارجةُ بن مُصعَب عن زيد بن أسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8679 - خارجة ضعيف
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی صبح ایسی نہیں ہوتی مگر اس میں دو فرشتے پکارتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا نعم البدل عطا فرما، اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! (مال) روک کر رکھنے والے کے مال کو ضائع و برباد کر دے، اور دو فرشتے صور پر مامور ہیں جو اس انتظار میں ہیں کہ انہیں کب حکم ملے اور وہ صور پھونکیں، اور دو فرشتے پکار کر کہتے ہیں کہ مردوں کے لیے عورتوں کی وجہ سے ہلاکت ہے اور عورتوں کے لیے مردوں کی وجہ سے ہلاکت ہے۔“
اس حدیث کو روایت کرنے میں خارجہ بن مصعب، زید بن اسلم سے منفرد ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8893
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، خارجة بن مصعب متروك، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص"» [ترقيم الرساله 8893] [ترقيم الشركة 8784] [ترقيم العلميه 8679]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) هكذا في نسخنا الخطية إلّا أنه زيد في هامش (م): ويقول الآخر.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ اسی طرح ہے، البتہ نسخہ (م) کے حاشیے میں "ویقول الآخر" (اور دوسرا کہتا ہے) کے الفاظ زائد ہیں۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا، خارجة بن مصعب متروك، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص".
درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے، کیونکہ (اس کا راوی) خارجہ بن مصعب "متروک" ہے۔ حافظ ذہبی نے "التلخیص" میں اسی وجہ سے اسے معلول قرار دیا ہے۔
وأخرجه البزار في "مسنده" (3424 - كشف الأستار) من طريق وكيع عن خارجة بن مصعب بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بزار نے اپنی "مسند" (3424 - کشف الاستار) میں وکیع عن خارجہ بن مصعب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد سلف منه آخره عند المصنف برقم (2705) من طريق وكيع.
حوالہ / مصدر: اس حدیث کا آخری حصہ مصنف کے ہاں حدیث نمبر (2705) کے تحت وکیع کے طریق سے گزر چکا ہے۔
ويشهد لأوله في الدعاء للمنفق والممسك حديث أبي هريرة مرفوعًا بلفظه عند البخاري (1442) ومسلم (1010).
متابعات و شواہد: خرچ کرنے والے اور روک کر رکھنے والے کے حق میں (فرشتوں کی) دعا کے حوالے سے اس کے ابتدائی حصے کی تائید حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث سے ہوتی ہے جو انہی الفاظ کے ساتھ بخاری (1442) اور مسلم (1010) میں موجود ہے۔
وحديث أبي الدرداء السالف عند المصنف برقم (3703).
متابعات و شواہد: نیز حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی اس کی شاہد ہے جو مصنف کے ہاں نمبر (3703) کے تحت گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8893 سے ماخوذ ہے۔