کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین پر 'اللہ اللہ' کہنے والا کوئی باقی نہ رہے
أخبرنا أحمد بن عَبْدَش الصَّرَام، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا محمد بن أبي صفوان الثَّقَفي، حدثنا بَهْز بن أَسَد، حدثنا شُعبة، أخبرنا علي بن الأقمَر قال: سمعت أبا الأحوَص يحدِّث عن عبد الله قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "لا تقومُ الساعةُ حتى لا يقالَ في الأرض: اللهُ اللهُ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. إنما تفرَّد مسلمٌ ﵀ بإخراج حديث شُعبة عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد الله عن النبي ﷺ: "لا تقومُ الساعة إلَّا على شِرار الناس".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8511 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. إنما تفرَّد مسلمٌ ﵀ بإخراج حديث شُعبة عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد الله عن النبي ﷺ: "لا تقومُ الساعة إلَّا على شِرار الناس".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8511 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین پر اللہ اللہ نہ کہا جانے لگے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اکیلے شعبہ کی ابواسحاق سے روایت کردہ اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے: ”قیامت صرف بدترین لوگوں پر ہی قائم ہوگی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اکیلے شعبہ کی ابواسحاق سے روایت کردہ اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے: ”قیامت صرف بدترین لوگوں پر ہی قائم ہوگی۔“
أخبرنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المُزكِّي، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا محمد بن يحيى بن فيَّاض، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حدثنا حُمَيد، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تقومُ الساعةُ حتى لا يقالَ في الأرض: لا إله إلَّا الله" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین پر «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہنا ختم نہ ہو جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا علي بن عثمان اللاحِقي، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، حدثنا ثابت، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تقومُ الساعةُ حتى لا يقالَ في الأرض: اللهُ اللهُ، وحتى تمرَّ المرأةُ بقِطْعةِ النَّعل فتقول: قد كان لهذه رَجلٌ مرّةً، وحتى يكونَ الرجلُ قَيِّمَ خمسين امرأةً، وحتى تُمطِرَ السماءُ ولا تُنبِتَ الأرضُ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8513 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8513 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین پر اللہ اللہ کہنا ختم نہ ہو جائے، اور یہاں تک کہ کوئی عورت جوتے کے ایک ٹکڑے کے پاس سے گزرے گی تو (اسے دیکھ کر حیرت سے) کہے گی: کسی زمانے میں اس کا بھی کوئی مرد (مالک) ہوا کرتا تھا، اور یہاں تک کہ ایک مرد پچاس عورتوں کا نگران بن جائے گا، اور یہاں تک کہ آسمان سے بارش تو خوب برسے گی مگر زمین کچھ نہیں اگائے گی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل ومحمد بن رجاء قالا: حدثنا أحمد بن عبد الرحمن بن وهب، حدثني عمِّي، حدثنا عمرو بن الحارث وابن لَهِيعة، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن سِنان بن سعد، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ: "والذي نفسي بيدِه، لا تقومُ الساعةُ على رجلٍ يقول: لا إله إلَّا الله، ويأمرُ بالمعروف وينهى عن المُنكَر" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس شخص پر قائم نہیں ہوگی جو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہتا ہو اور نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني ببُخارَى، أخبرنا عبد الله بن محمد بن ناجِيَة، حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني أَبي، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تقومُ الساعةُ حتى لا يقالَ في الأرض: اللهُ اللهُ، وحتى إنَّ المرأةَ لَتمُرُّ بالنَّعل فترفعُها وتقول: قد كانت هذه لرَجلٍ، وحتى يكونَ في خمسين امرأةً القيِّمُ الواحد، وحتى تُمطِرَ السماءُ ولا تُنبِتَ الأرضُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین پر اللہ اللہ کہنا ختم نہ ہو جائے، اور یہاں تک کہ کوئی عورت جوتے کے پاس سے گزرے گی تو اسے اٹھا کر کہے گی: یہ جوتا کسی مرد کا تھا، اور یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا نگران صرف ایک مرد رہ جائے گا، اور یہاں تک کہ آسمان سے بارش تو ہوگی مگر زمین کچھ نہیں اگائے گی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن المغيرة الهَمَذاني، حدثنا القاسم بن الحَكَم العُرَني، حدثنا سليمان بن أبي سليمان، حدثنا يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ أنه قال: "لا تقومُ الساعةُ حتى لا يَبقى على وجه الأرض أحدٌ الله فيه حاجَةٌ، وحتى تُؤخَذَ المرأةُ نهارًا جِهارًا تُنكَحُ وَسَطَ الطريق، لا يُنكِرُ ذلك أحدٌ ولا يغيِّرُه، فيكونُ أمثلَهم يومئذٍ الذي يقول: لو نَحَّيتَها عن الطريق قليلًا، فذاكَ فيهم مثلُ أبي بكرٍ وعمرَ فيكم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8516 - الخبر شبه خرافة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8516 - الخبر شبه خرافة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک روئے زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہ رہے جس میں اللہ کی کوئی حاجت (یعنی خیر کا کوئی پہلو) ہو، اور یہاں تک کہ عورت کو دن دیہاڑے سرِ عام پکڑ کر راستے کے عین وسط میں اس کے ساتھ بدکاری کی جائے گی، کوئی شخص اس پر اعتراض نہیں کرے گا اور نہ ہی اسے بدلے گا، پس ان میں اس دن سب سے بہتر وہ شخص ہوگا جو (بدکاری کرنے والے سے) کہے گا: کاش تم اسے راستے سے ذرا ایک طرف ہٹا لیتے، تو وہ شخص ان لوگوں میں (مرتبے کے لحاظ سے) ایسا ہوگا جیسے تم میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا علي بن ثابت، حدثني عبد الحميد بن جعفر (1)، حدثني أبي، عن عِلْباءَ السُّلَمي قال: سمعت النبي ﷺ يقول: "لا تقومُ الساعةُ إلَّا على حُثَالةِ الناس" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8517 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8517 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علباء سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت صرف لوگوں کے کوڑا کرکٹ (یعنی انتہائی بدترین اور گھٹیا ترین لوگوں) پر ہی قائم ہوگی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔