کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی یزید کے ہاتھوں بیت اللہ کی بے حرمتی کی خبر دینا
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا ابن عَوْن، عن خالد بن الحُوَيرِث، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي ﷺ قال: "الآيات خَرَزاتٌ منظوماتٌ في سِلْكٍ، يُقطَعُ السَّلكُ فيَتبَعُ بعضُها بعضًا". قال خالد بن الحويرث: كنا نادِينَ بالصَّبَاح، وهناك عبدُ الله بن عمرو، وهناك امرأةٌ من بني المغيرة يقال لها: فاطمة، فسمعَتْ عبد الله بن عمرو يقول: ذاك يزيدُ ابن معاوية، فقالت: أكذاكَ يا عبد الله بن عمرو تجده مكتوبًا في الكتاب؟ قال: لا أجدُه باسمه، ولكن أجدُ رجلًا من شجرة معاوية يسفكُ الدماء ويستحلُّ الأموال، ويَنقُضُ هذا البيتَ حَجرًا حَجرًا، فإن كان ذاكِ وأنا حيٌّ وإلَّا فاذكُريني. قال: وكان منزلُها على أبي قبيس، فلما كان زمنُ الحجّاج وابنِ الزُّبير ورأت البيتَ يُنقَضُ، قالت: رَحِمَ اللهُ عبد الله بن عمرو، قد كان حدَّثنا بهذا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8461 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8461 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”(قیامت کی) نشانیاں لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں «خَرَزاتٌ» کی مانند ہیں، جب دھاگا ٹوٹ جائے تو وہ ایک کے بعد ایک گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔“ خالد بن حویرث کہتے ہیں کہ ہم صبح کے وقت ایک مجلس میں بیٹھے تھے جہاں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما موجود تھے، اور وہیں بنو مغیرہ کی ایک خاتون فاطمہ نامی بھی تھیں، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا کہ: ”وہ یزید بن معاویہ ہے۔“ اس خاتون نے پوچھا: اے عبداللہ بن عمرو! کیا آپ اسے کتاب (آسمانی کتب) میں اسی طرح لکھا پاتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں اسے اس کے نام سے تو نہیں پاتا لیکن (صفت کے لحاظ سے) ایک ایسے شخص کو پاتا ہوں جو معاویہ کے شجرے سے ہوگا، وہ خون بہائے گا، مال کو حلال سمجھے گا اور اس گھر (کعبہ) کو ایک ایک پتھر کر کے ڈھائے گا، اگر وہ وقت میری زندگی میں آ گیا تو ٹھیک ورنہ مجھے یاد رکھنا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس عورت کا گھر جبلِ ابوقبیس پر تھا، جب حجاج اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور اس نے بیت اللہ کو ڈھایا جاتا دیکھا تو کہا: اللہ تعالیٰ عبداللہ بن عمرو پر رحم فرمائے، انہوں نے ہمیں اس کے متعلق پہلے ہی بتا دیا تھا۔
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم الأصفهاني، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن أبي إسحاق، عن زيد بن يُثَيع، عن حُذيفة قال: كيف بكم إذا سُئِلتُم الحقَّ فأعطيتُموه، وسألتم حقَّكم فمُنِعتُموه؟ قال: نَصبِرُ، قال: دَخَلتموها (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8462 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8462 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:) ”تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم سے حق مانگا جائے گا تو تم اسے دے دو گے، لیکن جب تم اپنا حق مانگو گے تو تمہیں محروم کر دیا جائے گا؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم صبر کریں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”(اگر ایسا کرو گے تو) تم اس (جنت) میں داخل ہو گئے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو النَّضر محمد بن محمد الفقيه وأبو الحسن أحمد بن محمد العنزي قالا: حدثنا معاذ بن نَجْدَة القُرشي [حدثنا خلاد بن يحيى] (2) حدثنا بشير بن المهاجر، عن عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال: "يجيءُ قومٌ صغارُ العيون، عِراضُ الوجوه، كأنَّ وجوههم الحَجَفٌ، فيُلحقون أهل الإسلام بمنابت الشِّيح، كأني أنظرُ إليهم وقد ربطوا خيولهم بسَوارِي المسجد"، فقيل لرسول الله ﷺ: يا رسول الله، من هم؟ قال: "التُّركُ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وقد اتَّفق الشيخانِ (1) ﵄ على حديث أبي الزِّناد عن الأعرج عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "لا تقومُ الساعةُ حتى تقاتلوا التُّرك، عِراضَ الوجوه صغار العيون ذُلْفَ الأُنوف (2)، كأنَّ وجوهَهم المَجَانُّ المُطرَقة".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8463 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وقد اتَّفق الشيخانِ (1) ﵄ على حديث أبي الزِّناد عن الأعرج عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "لا تقومُ الساعةُ حتى تقاتلوا التُّرك، عِراضَ الوجوه صغار العيون ذُلْفَ الأُنوف (2)، كأنَّ وجوهَهم المَجَانُّ المُطرَقة".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8463 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ایسی قوم آئے گی جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے چوڑے ہوں گے گویا ان کے چہرے ڈھالیں «الحَجَفٌ» ہوں، وہ اہل اسلام کو جھاڑیوں «الشِّيح» کے اگنے والے مقامات (بیابانوں) تک دھکیل دیں گے، گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ انہوں نے اپنے گھوڑوں کو مسجد کے ستونوں سے باندھ رکھا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ترک ہیں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اور شیخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ترکوں سے قتال نہ کر لو، جن کے چہرے چوڑے، آنکھیں چھوٹی اور ناکیں چپٹی «ذُلْفَ الأُنوف» ہوں گی، گویا ان کے چہرے تہ بہ تہ چمڑے والی ڈھالیں «المَجَانُّ المُطرَقة» ہیں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اور شیخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ترکوں سے قتال نہ کر لو، جن کے چہرے چوڑے، آنکھیں چھوٹی اور ناکیں چپٹی «ذُلْفَ الأُنوف» ہوں گی، گویا ان کے چہرے تہ بہ تہ چمڑے والی ڈھالیں «المَجَانُّ المُطرَقة» ہیں۔“
سمعتُ الفقيه الأديب الأوحد أبا بكر محمد بن علي القَفَّال غير مرة يقول: سمعت أبا بكر محمد بن يحيى الصُّولِيَّ النَّحْوي يقول: أولُ من مَدَحَ التُّركَ من شعراء العرب عليُّ بن العباس الرُّومي حيث يقول: إذا ثَبَتوا فسَدٌّ من حديدٍ … تَخالُ عيوننا فيهِ تَحارُ وإن بَرَزُوا فنيرانٌ تلظَّى … على الأعداء يضرِمُها (3) استِعارُ ملوكُ الأرض أعينُهم صغارٌ … إذا بَرَزُوا وأنفُسُهم كبارُ
حافظ طلحہ بابر
امام حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے فقیہ و ادیب ابوبکر محمد بن علی القفال سے ایک سے زائد بار سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابوبکر محمد بن یحییٰ صولی نحوی کو کہتے سنا کہ عرب شعراء میں سب سے پہلے علی بن عباس رومی نے ترکوں کی مدح کی جب انہوں نے یہ اشعار کہے: ”جب وہ ثابت قدم رہتے ہیں تو لوہے کی دیوار بن جاتے ہیں، ہماری آنکھیں اس منظر میں حیراں رہ جاتی ہیں۔ اور جب وہ میدانِ جنگ میں نکلتے ہیں تو بھڑکتی ہوئی آگ بن جاتے ہیں جو دشمنوں پر شعلہ زن ہوتی ہے۔ وہ روئے زمین کے بادشاہ ہیں، جب وہ سامنے آئیں تو ان کی آنکھیں چھوٹی محسوس ہوتی ہیں لیکن ان کے حوصلے بہت بلند ہوتے ہیں۔“
أخبرني محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله، أخبرنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أيوب، عن ابن سيرين، أنَّ ابن مسعود قال: كأني بالتُّرك قد أتتكم على بَراذِينَ مُخَذَّمةِ الآذان، حتى تربطها بشطِّ الفُرات (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8465 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّئِلِيُّ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: «يُوشِكُ أَنْ لَا يَبْقَى فِي أَرْضِ الْعَجَمِ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا قَتِيلٌ، أَوْ أَسِيرٌ يَحْكُمُ فِي دَمِهِ» . فَقَالَ زُرْعَةُ بْنُ ضَمْرَةَ: أَتَظْهَرُ الْمُشْرِكُونَ عَلَى الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَدَافَعَ مَنَاكِبُ نِسَاءِ بَنِي عَامِرٍ عَلَى ذِي الْخَلَصَةِ» ، قَالَ: فَذَكَرَ قَوْلَهُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: عَبْدُ اللَّهِ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَمُسْلِمٍ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8465 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّئِلِيُّ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: «يُوشِكُ أَنْ لَا يَبْقَى فِي أَرْضِ الْعَجَمِ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا قَتِيلٌ، أَوْ أَسِيرٌ يَحْكُمُ فِي دَمِهِ» . فَقَالَ زُرْعَةُ بْنُ ضَمْرَةَ: أَتَظْهَرُ الْمُشْرِكُونَ عَلَى الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَدَافَعَ مَنَاكِبُ نِسَاءِ بَنِي عَامِرٍ عَلَى ذِي الْخَلَصَةِ» ، قَالَ: فَذَكَرَ قَوْلَهُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: عَبْدُ اللَّهِ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَمُسْلِمٍ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”گویا میں ترکوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ تمہارے پاس ایسے خچروں یا گھوڑوں پر سوار ہو کر آئے ہیں جن کے کان کٹے ہوئے «مُخَذَّمةِ الآذان» ہیں، یہاں تک کہ وہ انہیں دریائے فرات کے کنارے لا کر باندھیں گے۔“
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن عبد الله بن السَّمّاك الزاهد ببغداد، حدثنا أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي، حدثنا مُعاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قتادة، عن أبي الأسود الدِّيلِي، قال: انطلقتُ أنا وزُرْعةُ بن ضَمْرة مع أبي موسى الأشعري إلى عمر بن الخطّاب، فأتينا عبد الله بنَ عَمْرو (1)، فجلستُ عن يمينه، وجلس زُرْعةُ عن يساره، فقال عبد الله بن عمرو: يوشكُ أن لا يبقى في أرض العجم من العرب إلّا قتيلٌ أو أسيرٌ يُحكَمُ في دمه، فقال زرعةُ بن ضَمْرة: أَيَظْهَرُ المشركون على أهل الإسلام؟ قال: ممَّن أنت؟ قال: من بني عامر بن صَعصَعة، قال: لا تقومُ الساعةُ حتى تَدافَعَ مَناكِبُ نساء بني عامر على ذي الخَلَصة. قال: فذَكَرْنا لعمر بن الخطّاب قول عبد الله بن عمرو، فقال عمر: عبدُ الله بن عَمْرو أعلمُ بما يقول؛ ثلاث مرات (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ میں اور زرعہ بن ضمرہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ ہوئے، ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، میں ان کی دائیں جانب اور زرعہ ان کی بائیں جانب بیٹھ گئے، تو عبداللہ بن عمرو نے فرمایا: ”عنقریب زمینِ عجم میں کوئی عرب باقی نہیں رہے گا مگر وہ قتل کر دیا جائے گا یا ایسا قیدی ہوگا جس کے خون کا فیصلہ دشمن کے ہاتھ میں ہوگا۔“ زرعہ بن ضمرہ نے پوچھا: کیا مشرکین اہل اسلام پر غالب آ جائیں گے؟ انہوں نے پوچھا: تم کس قبیلے سے ہو؟ اس نے کہا: میں بنو عامر بن صعصعہ سے ہوں، تو انہوں نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک بنو عامر کی عورتوں کے کندھے ذو الخلصہ (بت) کے گرد طواف کرتے ہوئے ایک دوسرے سے نہ ٹکرانے لگیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی اس بات کا ذکر کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے تین بار فرمایا: ”عبداللہ بن عمرو جو کہتے ہیں وہ اسے بہتر جانتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عمرو بن السَّمّاك، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن محمد بن سِيرِين، عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن عبد الله بن عمرو بن عمرو قال: يوشك بنو قَنطُورَ بن كركر أن يُخرِجوا أهل العراق من أرضهم، قلت: ثم يعودون (3)؟ قال: إنك تشتهي ذلك؟ قال: ويكون لهم سَلْوةٌ من عَيش (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8466 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8466 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”عنقریب بنو قنطورہ (ترک) اہل عراق کو ان کی زمین سے نکال دیں گے۔“ میں نے پوچھا: کیا پھر وہ عراقی واپس لوٹیں گے؟ انہوں نے کہا: ”کیا تم یہی چاہتے ہو؟“ اور پھر ان کے لیے زندگی میں آسودگی «سَلْوةٌ من عَيش» ہوگی۔
أخبرناه أبو عبد الله الصنعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أيوب، عن ابن سيرين، عن عبد الرحمن بن أبي بَكْرة قال: قال عبد الله بن عمرو بن العاص: أوشك بنو قَنطورَ [أن] يُخرِجوكم من أرض العراق، قال قلت ثم نعودُ؟ قال: وذاك أحبُّ إليك؟ ثم تعودون ويكون لكم بها سَلوةٌ من عَيش (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وبنو قَنطُوراء: هم التُّرك.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وبنو قَنطُوراء: هم التُّرك.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”عنقریب بنو قنطورہ (ترک) تمہیں عراق کی سرزمین سے نکال دیں گے۔“ میں نے عرض کیا: کیا ہم پھر واپس لوٹیں گے؟ انہوں نے فرمایا: ”کیا تم یہی چاہتے ہو؟ تو تم واپس لوٹو گے اور تمہارے لیے وہاں زندگی کی آسودگی «سَلوةٌ من عَيش» ہوگی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور بنو قنطوراء سے مراد ترک ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور بنو قنطوراء سے مراد ترک ہیں۔
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عَتَّاب العبدي ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي (2)، حدثنا علي بن عيّاش، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوبان، عن عبد الله بن الفضل، عن الأعرج قال: سمعت أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ: "والذي نفسي بيده لا تقومُ الساعةُ حتى تقاتلوا التُّركَ، صِغار الأعيُن، حُمْرَ الوجوه، ذُلْفَ الأُنوف، كأنَّ وجوهَهم المَجَانُّ المُطرقة" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجا فيه: "حُمر الوجوه"!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8468 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجا فيه: "حُمر الوجوه"!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8468 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ترکوں سے قتال نہ کر لو، جن کی آنکھیں چھوٹی، چہرے سرخ اور ناکیں چپٹی «ذُلْفَ الأُنوف» ہوں گی، گویا ان کے چہرے تہ بہ تہ چمڑے والی ڈھالیں «المَجَانُّ المُطرقة» ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے (اپنی مرویات میں) ”سرخ چہرے“ کے الفاظ روایت نہیں کیے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے (اپنی مرویات میں) ”سرخ چہرے“ کے الفاظ روایت نہیں کیے۔