حدیث نمبر: 8672
سمعتُ الفقيه الأديب الأوحد أبا بكر محمد بن علي القَفَّال غير مرة يقول: سمعت أبا بكر محمد بن يحيى الصُّولِيَّ النَّحْوي يقول: أولُ من مَدَحَ التُّركَ من شعراء العرب عليُّ بن العباس الرُّومي حيث يقول: إذا ثَبَتوا فسَدٌّ من حديدٍ … تَخالُ عيوننا فيهِ تَحارُ وإن بَرَزُوا فنيرانٌ تلظَّى … على الأعداء يضرِمُها (3) استِعارُ ملوكُ الأرض أعينُهم صغارٌ … إذا بَرَزُوا وأنفُسُهم كبارُ
حافظ طلحہ بابر

امام حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے فقیہ و ادیب ابوبکر محمد بن علی القفال سے ایک سے زائد بار سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابوبکر محمد بن یحییٰ صولی نحوی کو کہتے سنا کہ عرب شعراء میں سب سے پہلے علی بن عباس رومی نے ترکوں کی مدح کی جب انہوں نے یہ اشعار کہے: ”جب وہ ثابت قدم رہتے ہیں تو لوہے کی دیوار بن جاتے ہیں، ہماری آنکھیں اس منظر میں حیراں رہ جاتی ہیں۔ اور جب وہ میدانِ جنگ میں نکلتے ہیں تو بھڑکتی ہوئی آگ بن جاتے ہیں جو دشمنوں پر شعلہ زن ہوتی ہے۔ وہ روئے زمین کے بادشاہ ہیں، جب وہ سامنے آئیں تو ان کی آنکھیں چھوٹی محسوس ہوتی ہیں لیکن ان کے حوصلے بہت بلند ہوتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8672
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 8672] [ترقيم الشركة 8566]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) تحرَّف في (ز) و (ك) إلى: بصر فيها، وفي (م) و (ب) إلى: يصرفها، وضبطت في (م) بتشديد الراء، ولعلَّ الصواب ما أثبتنا، فالضِّرام اشتعال النار في الحطب وغيره.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ك) میں تحریف ہو کر "بصر فيها" اور نسخہ (م) اور (ب) میں "يصرفها" بن گیا، نسخہ (م) میں را پر تشدید لگی ہے۔ غالباً درست وہی ہے جو ہم نے ثابت کیا ہے (یعنی الضرام)، کیونکہ "ضرام" کا مطلب لکڑی وغیرہ میں آگ کا بھڑکنا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8672 سے ماخوذ ہے۔