المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
إِخْبَارُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بِإِنْقَاضِ يَزِيدَ الْبَيْتَ باب: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی یزید کے ہاتھوں بیت اللہ کی بے حرمتی کی خبر دینا
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن عبد الله بن السَّمّاك الزاهد ببغداد، حدثنا أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي، حدثنا مُعاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قتادة، عن أبي الأسود الدِّيلِي، قال: انطلقتُ أنا وزُرْعةُ بن ضَمْرة مع أبي موسى الأشعري إلى عمر بن الخطّاب، فأتينا عبد الله بنَ عَمْرو (1)، فجلستُ عن يمينه، وجلس زُرْعةُ عن يساره، فقال عبد الله بن عمرو: يوشكُ أن لا يبقى في أرض العجم من العرب إلّا قتيلٌ أو أسيرٌ يُحكَمُ في دمه، فقال زرعةُ بن ضَمْرة: أَيَظْهَرُ المشركون على أهل الإسلام؟ قال: ممَّن أنت؟ قال: من بني عامر بن صَعصَعة، قال: لا تقومُ الساعةُ حتى تَدافَعَ مَناكِبُ نساء بني عامر على ذي الخَلَصة. قال: فذَكَرْنا لعمر بن الخطّاب قول عبد الله بن عمرو، فقال عمر: عبدُ الله بن عَمْرو أعلمُ بما يقول؛ ثلاث مرات (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ میں اور زرعہ بن ضمرہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ ہوئے، ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، میں ان کی دائیں جانب اور زرعہ ان کی بائیں جانب بیٹھ گئے، تو عبداللہ بن عمرو نے فرمایا: ”عنقریب زمینِ عجم میں کوئی عرب باقی نہیں رہے گا مگر وہ قتل کر دیا جائے گا یا ایسا قیدی ہوگا جس کے خون کا فیصلہ دشمن کے ہاتھ میں ہوگا۔“ زرعہ بن ضمرہ نے پوچھا: کیا مشرکین اہل اسلام پر غالب آ جائیں گے؟ انہوں نے پوچھا: تم کس قبیلے سے ہو؟ اس نے کہا: میں بنو عامر بن صعصعہ سے ہوں، تو انہوں نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک بنو عامر کی عورتوں کے کندھے ذو الخلصہ (بت) کے گرد طواف کرتے ہوئے ایک دوسرے سے نہ ٹکرانے لگیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی اس بات کا ذکر کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے تین بار فرمایا: ”عبداللہ بن عمرو جو کہتے ہیں وہ اسے بہتر جانتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (م) میں اس جگہ اور اس کے بعد والی جگہ پر "عمر" (بغیر واؤ کے) لکھا ہے جو کہ غلطی ہے (درست عمرو ہے)۔
(2) إسناده ضعيف، وسيأتي بيانه عند الرواية الآتية برقم (8866) من طريق عبيد الله بن عمر القواريري عن معاذ بن هشام.
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے، اس کی وضاحت آگے آنے والی روایت نمبر (8866) میں عبیداللہ بن عمر قواریری عن معاذ بن ہشام کے طریق میں آئے گی۔