المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
إِخْبَارُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بِإِنْقَاضِ يَزِيدَ الْبَيْتَ باب: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی یزید کے ہاتھوں بیت اللہ کی بے حرمتی کی خبر دینا
حدیث نمبر: 8673
أخبرني محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله، أخبرنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أيوب، عن ابن سيرين، أنَّ ابن مسعود قال: كأني بالتُّرك قد أتتكم على بَراذِينَ مُخَذَّمةِ الآذان، حتى تربطها بشطِّ الفُرات (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8465 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_
أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّئِلِيُّ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: «يُوشِكُ أَنْ لَا يَبْقَى فِي أَرْضِ الْعَجَمِ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا قَتِيلٌ، أَوْ أَسِيرٌ يَحْكُمُ فِي دَمِهِ» . فَقَالَ زُرْعَةُ بْنُ ضَمْرَةَ: أَتَظْهَرُ الْمُشْرِكُونَ عَلَى الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَدَافَعَ مَنَاكِبُ نِسَاءِ بَنِي عَامِرٍ عَلَى ذِي الْخَلَصَةِ» ، قَالَ: فَذَكَرَ قَوْلَهُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: عَبْدُ اللَّهِ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَمُسْلِمٍحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”گویا میں ترکوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ تمہارے پاس ایسے خچروں یا گھوڑوں پر سوار ہو کر آئے ہیں جن کے کان کٹے ہوئے «مُخَذَّمةِ الآذان» ہیں، یہاں تک کہ وہ انہیں دریائے فرات کے کنارے لا کر باندھیں گے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) رجاله ثقات إلّا أنه منقطع، فإنّ محمد بن سيرين لم يسمع من ابن مسعود، وقد وقع في رواية إسماعيل ابن عُليَّة عن أيوب - وهو ابن أبي تميمة السختياني - عند أبي عمرو الداني في "السنن الواردة في الفتن" (467) عن ابن سيرين قال: نُبِّئتُ أنَّ ابن مسعود كان يقول … فذكره.
درجۂ حدیث: اس کے رجال (راوی) "ثقہ" ہیں لیکن یہ "منقطع" ہے، کیونکہ محمد بن سیرین نے ابن مسعود سے سماع نہیں کیا۔
فنی نکتہ / علّت: اسماعیل ابن علیہ عن ایوب (سختیانی) کی روایت میں جو ابوعمرو دانی کی "السنن الواردۃ فی الفتن" (467) میں ہے، ابن سیرین نے کہا: "مجھے خبر دی گئی ہے کہ ابن مسعود فرماتے تھے..."، پس (انقطاع واضح ہو گیا)۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (8859) عن إسحاق بن إبراهيم - وهو ابن عبّاد الدَّبَري - بهذا الإسناد. وهو في "جامع معمر" برواية عبد الرزاق برقم (20798)، وعن عبد الرزاق أخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (1928).
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (8859) میں اسحاق بن ابراہیم (ابن عباد دبری) سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ یہ معمر کی "الجامع" (بروایت عبدالرزاق 20798) میں موجود ہے، اور عبدالرزاق سے اسے نعیم بن حماد نے "الفتن" (1928) میں روایت کیا ہے۔
قوله: "مخذَّمة الآذان" أي: مقطَّعَتها.
نوٹ / توضیح: قول "مخذَّمة الآذان" کا مطلب ہے: کٹے ہوئے کانوں والے۔
درجۂ حدیث: اس کے رجال (راوی) "ثقہ" ہیں لیکن یہ "منقطع" ہے، کیونکہ محمد بن سیرین نے ابن مسعود سے سماع نہیں کیا۔
فنی نکتہ / علّت: اسماعیل ابن علیہ عن ایوب (سختیانی) کی روایت میں جو ابوعمرو دانی کی "السنن الواردۃ فی الفتن" (467) میں ہے، ابن سیرین نے کہا: "مجھے خبر دی گئی ہے کہ ابن مسعود فرماتے تھے..."، پس (انقطاع واضح ہو گیا)۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (8859) عن إسحاق بن إبراهيم - وهو ابن عبّاد الدَّبَري - بهذا الإسناد. وهو في "جامع معمر" برواية عبد الرزاق برقم (20798)، وعن عبد الرزاق أخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (1928).
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (8859) میں اسحاق بن ابراہیم (ابن عباد دبری) سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ یہ معمر کی "الجامع" (بروایت عبدالرزاق 20798) میں موجود ہے، اور عبدالرزاق سے اسے نعیم بن حماد نے "الفتن" (1928) میں روایت کیا ہے۔
قوله: "مخذَّمة الآذان" أي: مقطَّعَتها.
نوٹ / توضیح: قول "مخذَّمة الآذان" کا مطلب ہے: کٹے ہوئے کانوں والے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8673 سے ماخوذ ہے۔