کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جب آدمی کو بے بسی اور گناہ گاری کے درمیان انتخاب کرنا پڑے گا
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورْمَة (5)، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان عن داود بن أبي هند، قال: أخبرني شيخٌ سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ: "سيأتي على الناس زمانٌ يُخيَّر فيه الرجلُ بين العَجْز والفُجور، فمن أدرك ذلك الزمان فليَختَرِ العجز على الفُجور" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وإنَّ الشيخ الذي لم يُسمِّ سفيانُ الثَّوري عن داود بن أبي هند هو سعيد بن أبي جَبيرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8352 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وإنَّ الشيخ الذي لم يُسمِّ سفيانُ الثَّوري عن داود بن أبي هند هو سعيد بن أبي جَبيرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8352 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں آدمی کو بے بسی اور گناہگاری کے درمیان اختیار دیا جائے گا، پس جو شخص وہ زمانہ پائے اسے چاہیے کہ وہ فجور (گناہگاری) کے مقابلے میں عجز (بے بسی اور گوشہ نشینی) کو اختیار کر لے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ وہ بزرگ جن کا نام سفیان ثوری نے داؤد بن ابی ہند سے روایت میں ذکر نہیں کیا، وہ سعید بن ابی جبیرہ ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ وہ بزرگ جن کا نام سفیان ثوری نے داؤد بن ابی ہند سے روایت میں ذکر نہیں کیا، وہ سعید بن ابی جبیرہ ہیں۔
حدَّثَناه أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عباد بن العوّام، عن داود بن أبي هند، عن سعيد بن أبي جَبيرة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "سيأتي على الناسٌ زمان يُخيَّر فيه الرجلُ بين العَجْزِ والفُجور، فمن أدرك منكم ذلك الزمان فليخترِ العجز على الفجور" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں آدمی کو بے بسی اور گناہگاری کے درمیان اختیار دیا جائے گا، پس تم میں سے جو کوئی وہ زمانہ پائے اسے چاہیے کہ وہ فجور کے مقابلے میں عجز کو ترجیح دے۔“
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا عبد الله بن صالح، أخبرني معاوية بن صالح، حدثني أبو الزاهرية، عن كَثير بن مُرَّة، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "ليَعْشَينَّ أمَّتي من بعدي فتنٌ كقِطَع الليلِ المُظلِم، يُصبحُ الرجلُ فيها مؤمنًا ويُمسي كافرًا، ويُمسي مؤمنًا ويصبحُ كافرًا، يبيعُ أقوامٌ دينَهم بعَرَضٍ من الدنيا قليلٍ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وشاهده الحديث الذي يعرِّف هذا المتنَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8354 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وشاهده الحديث الذي يعرِّف هذا المتنَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8354 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کو میرے بعد ایسے فتنے ڈھانپ لیں گے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے، آدمی ان میں صبح کو مؤمن ہوگا اور شام کو کافر، اور شام کو مؤمن ہوگا اور صبح کو کافر ہو جائے گا، لوگ دنیا کے تھوڑے سے مال کے بدلے اپنا دین بیچ ڈالیں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کا شاہد وہ حدیث ہے جو اس متن کی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کا شاہد وہ حدیث ہے جو اس متن کی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔
حدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن يعقوب. وقد حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث وابن لَهِيعة، عن يزيد بن أبي حبيب، عن سِنَان ابن سعد، عن أنس بن مالك، عن رسول الله ﷺ أنه قال: "بينَ يَدَي الساعةِ فتنٌ كَقِطَع الليل المُظلم، يصبحُ الرجلُ فيها مؤمنًا ويُمسي كافرًا، ويُمسي مؤمنًا ويصبح كافرًا، يبيعُ أقوامٌ دينَهم بعَرَضٍ من الدنيا" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8355 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8355 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند فتنے ہوں گے، آدمی ان میں صبح کو مؤمن ہوگا اور شام کو کافر ہو جائے گا، اور شام کو مؤمن ہوگا اور صبح کو کافر ہو جائے گا، لوگ دنیا کے (تھوڑے سے) مال کے بدلے اپنا دین بیچ ڈالیں گے۔“