کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اس امت میں پانچ بڑے فتنے رکھے گئے ہیں
أخبرني محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن طارق بن شهاب (3)، عن مُنذِر الثَّوري، عن عاصم بن ضَمْرة، عن علي قال: جُعِلَت في هذه الأُمّة خمس فتنِ: فتنةٌ عامَّةٌ، ثم فتنةٌ خاصةٌ، ثم فتنةُ عامةٍ، ثم فتنةُ خاصة، ثم تأتي الفتنة العمياءُ الصَّمّاء المُطبقةُ التي يصير الناس فيها كالأنعام (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8350 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اس امت میں پانچ فتنے مقرر کیے گئے ہیں: ایک عام فتنہ، پھر ایک خاص فتنہ، پھر ایک عام فتنہ، پھر ایک خاص فتنہ، پھر وہ اندھا، بہرا اور ہمہ گیر فتنہ آئے گا جس میں لوگ چوپایوں کی طرح (بے عقل) ہو جائیں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8554
درجۂ حدیث محدثین: خبر قوي
تخریج حدیث «خبر قوي، رجاله لا بأس بهم معروفون غير طارق فإننا لم نقف على حاله كما سبق، إلا أنه قد توبع» [ترقيم الرساله 8554] [ترقيم الشركة 8452] [ترقيم العلميه 8350]
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَويهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرَّة، عن أبي البَخْتَري، عن أبي ثَوْر قال: دَفَعتُ إلى حُذيفة وأبي (2) مسعود وهما يتحدَّثان في المسجد، فذكروا الفتنةَ، فقال أبو مسعود: ما كنتُ أرى ترتدُّ على عَقِبَيها لم يُهرَقُ فيها مِحجمٌ من دم (1)، وإنَّ الرجلَ لَيُصبحُ مؤمنًا ويُمسي كافرًا، ويصبح كافرًا ويمسي مؤمنًا، يقاتل في الفتنة اليوم ويقتله الله غدًا، يُنكِّس قلبَه (2) فتَعلُو اسْتُه، فقال أبو مسعود: صدقتَ، هكذا حدَّثَنا رسولُ الله ﷺ في الفتنة (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وأبو ثَور هذا من كِبار التابعين، وأبو البختري قد أدرك حذيفة (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8351 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوثور سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں سیدنا حذیفہ اور سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا جبکہ وہ مسجد میں محوِ گفتگو تھے، انہوں نے فتنے کا تذکرہ کیا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرا گمان نہیں تھا کہ یہ فتنہ اپنی ایڑیوں کے بل اس طرح پلٹ آئے گا کہ اس میں ایک پچھنے (خون نکالنے والے آلے) کے برابر بھی خون نہیں بہایا گیا ہوگا، اور یقیناً آدمی صبح کو مؤمن ہوگا اور شام کو کافر ہو جائے گا، اور شام کو مؤمن ہوگا اور صبح کو کافر ہو جائے گا، وہ آج فتنے میں لڑے گا اور کل اللہ اسے قتل کر دے گا، اس کا دل الٹ دیا جائے گا تو اس کا نچلا حصہ اوپر آ جائے گا۔“ تو ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، رسول اللہ ﷺ نے فتنے کے بارے میں ہمیں اسی طرح بتایا تھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ابوثور کبار تابعین میں سے ہیں اور ابوالبختری نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8555
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 8555] [ترقيم الشركة 8453] [ترقيم العلميه 8351]