حدیث نمبر: 8557
حدَّثَناه أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عباد بن العوّام، عن داود بن أبي هند، عن سعيد بن أبي جَبيرة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "سيأتي على الناسٌ زمان يُخيَّر فيه الرجلُ بين العَجْزِ والفُجور، فمن أدرك منكم ذلك الزمان فليخترِ العجز على الفجور" (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں آدمی کو بے بسی اور گناہگاری کے درمیان اختیار دیا جائے گا، پس تم میں سے جو کوئی وہ زمانہ پائے اسے چاہیے کہ وہ فجور کے مقابلے میں عجز کو ترجیح دے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8557
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف شاذٌّ
تخریج حدیث «إسناده ضعيف شاذٌّ ، لمخالفة عباد بن العوام جمعًا من ثقات أصحاب داود بن أبي هند في تسمية شيخه كما هو مبيَّن في الحديث السابق، وسعيد بن أبي جبيرة هذا لا يعرف إلا في هذا الحديث عند المصنف، ولم نقف له على ترجمة، وفي هذه الطبقة من شيوخ داود سعيدُ ...» [ترقيم الرساله 8557] [ترقيم الشركة 8455]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف شاذٌّ لمخالفة عباد بن العوام جمعًا من ثقات أصحاب داود بن أبي هند في تسمية شيخه كما هو مبيَّن في الحديث السابق، وسعيد بن أبي جبيرة هذا لا يعرف إلا في هذا الحديث عند المصنف، ولم نقف له على ترجمة، وفي هذه الطبقة من شيوخ داود سعيدُ بن أبي خَيْرة، إلّا أنَّ هذا لم يدرك أبا هريرة، ولا يروي عنه إلا بواسطة الحسن البصري، ولا يؤثر توثيقه إلّا عن ابن حبان.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف اور شاذ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ عباد بن العوام کا داود بن ابی ہند کے ثقہ شاگردوں کی جماعت کی مخالفت کرنا ہے جو شیخ کا نام لینے میں ہوئی، جیسا کہ پچھلی حدیث میں بیان ہوا۔ نیز یہ سعید بن ابی جبیرہ مصنف کے ہاں صرف اسی حدیث میں پہچانا گیا ہے، ورنہ ہمیں اس کے حالات (ترجمہ) نہیں ملے۔ داود کے شیوخ کے اسی طبقے میں ایک "سعید بن ابی خیرہ" بھی ہیں، مگر انہوں نے ابو ہریرہ کو نہیں پایا اور وہ ان سے حسن بصری کے واسطے کے بغیر روایت نہیں کرتے، اور ان کی توثیق سوائے ابن حبان کے کسی سے منقول نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8557 سے ماخوذ ہے۔