کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنے (شہادت) کے بارے میں خبر دینا
أخبرني الحسن بن حليم (1) المروَزي، حدثنا أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري، حدثنا سعيد بن هُبيرة، حدثنا محمد بن سُلَيم، حدثنا قَتَادة، عن عبد الله بن شَقيق العُقَيلي، عن مُرَّة البَهْزي قال: قال رسول الله ﷺ: "يُفتَحُ على الأرض فتنٌ كَصَيَاصِي البقر"، فمرَّ رجلٌ مُقنَّع، فقال: "هذا يومئذٍ على الحقِّ"، فقمتُ إليه فأخذتُ بمَجامِعِ ثوبه، فقلت: هذا هو يا رسول الله؟ قال: "هذا"، قال: فإذا هو عثمان (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8334 - سعيد بن هبيرة اتهمه ابن حبان
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8334 - سعيد بن هبيرة اتهمه ابن حبان
حافظ طلحہ بابر
مرہ بہزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زمین پر ایسے فتنے ظاہر ہوں گے جو گائے کے سینگوں کی طرح (نوکدار اور الجھے ہوئے) ہوں گے،“ اسی دوران ایک شخص سر ڈھانپے ہوئے گزرا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شخص اس دن حق پر ہوگا،“ میں اٹھ کر اس کی طرف گیا اور اس کے کپڑوں سے پکڑ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہی وہ شخص ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں یہی ہے،“ دیکھا تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب بن خالد، أخبرنا موسى بن عُقبة، أخبرني جدِّي أبو أُمِّي أبو حَبِيبة (1): أنه دخل الدارَ وعثمانُ محصورٌ فيها، وأنه سمع أبا هريرة يستأذنُ عثمان في الكلام، فأَذِنَ، له، فقام فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ستَلقَونَ بعدي فتنةً واختلافًا" أو قال: "اختلافًا وفتنة"، فقال له قائل: يا رسول الله، بمَ (2) تأمرنا؟ قال: "عليكم بالأمير وأصحابه"، وهو يشيرُ بذلك إلى عثمان (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8335 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8335 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوحبیبہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے جبکہ آپ محصور تھے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بات کرنے کی اجازت طلب کی، آپ نے اجازت دی تو وہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم میرے بعد فتنوں اور اختلاف سے ملو گے،“ کسی کہنے والے نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”تم امیر اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بكر بن سَوَادة الجُذَامِيَّ حدثه، أنَّ سُحَيمًا حدَّثه عن رُوَيفِع بن ثابت الأنصاري أنه قال: قُرِّبَ لرسول الله ﷺ تمرٌ ورُطَبٌ (4)، فأكلوا منه حتى لم يُبقُوا شيئًا إِلَّا نَواه وما لا خير فيه، فقال رسول الله ﷺ: "تدرون ما هذا؟ تذهَبون الخيِّر فالخيِّرَ، حتى لا يبقى منكم إِلَّا مثلُ هذا" (5).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه الصحيحُ حديث أبي حُميد الطاعِني الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8336 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه الصحيحُ حديث أبي حُميد الطاعِني الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8336 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا رُویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں خشک اور تازہ کھجوریں پیش کی گئیں، صحابہ نے انہیں کھایا یہاں تک کہ صرف گٹھلیاں اور وہ فضلہ بچا جس میں کوئی خیر نہ تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ تم میں سے بہتر لوگ ایک ایک کر کے رخصت ہو جائیں گے یہاں تک کہ تمہارے درمیان صرف ایسے ہی لوگ بچیں گے (جن میں خیر نہیں ہوگی)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی صحیح شاہد حدیث ابوحمید الطاعنی کی مروی روایت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی صحیح شاہد حدیث ابوحمید الطاعنی کی مروی روایت ہے۔
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي والعباس بن الفَضْل الأسفاطي والحسن بن علي بن زياد، قالوا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيْس، حدثني سليمان بن بلال، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن أبي حُميد، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ: "لتُنتَقَيُنَّ كما يُنتقَى التمرُ من الجَفْنة، فليذهَبَنَّ خيارُكم وليبقَيَنَّ شِرارُكم، فموتوا إن استطعتُم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله رواية أخرى عن يونس بن يزيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8337 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله رواية أخرى عن يونس بن يزيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8337 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں (فتنوں کے ذریعے) اسی طرح چن لیا جائے گا جیسے لگن (بڑے پیالے) سے اچھی کھجوریں چن لی جاتی ہیں، پس تمہارے بہترین لوگ رخصت ہو جائیں گے اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، تو اگر تم سے ہو سکے تو (فتنوں سے بچنے کے لیے) موت کو گلے لگا لو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرناه أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عِمران الأنصاري (2)، حدثنا طلحة بن يحيى الزُّرَقي (3)، حدثنا يونس بن يزيد، عن ابن شِهاب، عن أبي حُميد مولى مُسافِع قال: سمعت أبا هريرة يحدِّث، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لَتُنتَقَيُنَّ كما يُنتقَى التَّمْرُ من الجَفْنة، فلَيَذهَبَنَّ خِيارُكم وليَبقَيَنَّ شِرارُكم، حتى يبقى من لا يعبأ الله بهم، فموتوا إن استطعتم" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں (آزمائشوں میں) اسی طرح چن لیا جائے گا جیسے لگن سے اچھی کھجوریں چن لی جاتی ہیں، پس تمہارے بہترین لوگ رخصت ہو جائیں گے اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، یہاں تک کہ وہ لوگ بچیں گے جن کی اللہ کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہوگی، تو اگر تم سے ہو سکے تو موت کو گلے لگا لو۔“
حدثنا أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهانَ الجزَّار بمكة حَرَسها الله على الصَّفا إملاءً، حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغُ المكِّي، حدثنا سعيد بن منصور المكّي، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن (2) أبي حازم، عن عُمارة بن عمرو بن حَزم، عن عبد الله بن عمرو، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "يُوشِكُ أن يأتي زمانٌ يُغربَلُ الناسُ فيه غَربلةً، ويَبْقى حُثالةٌ من الناس قد مَرِجَت عهودهم وأماناتُهم، واختلَفوا وكانوا هكذا" وشبَّك بين أصابعه، قالوا: فكيف تأمُرنا يا رسول الله؟ قال: "تأخذون ما تَعرِفون، وتَدَعُون ما تُنكرون، وتُقبلون على أَمرِ خَاصَّتِكم، وتَدَعُون أمر عامَّتِكم" (3). قال سعيد بن منصور: حُثالة الناس: رُذَالُهم، ومعنى قوله: "مَرِجَت عهودهم" إِذْ لم يَفُوا بها.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8340 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8340 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کو اس طرح چھانٹ دیا جائے گا جیسے غلہ چھانٹا جاتا ہے، اور صرف نکمے اور گھٹیا لوگ باقی رہ جائیں گے جن کے عہد اور امانتیں بگڑ چکی ہوں گی، اور وہ (اختلاف کی وجہ سے) اس طرح ہو جائیں گے“ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے دکھایا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس چیز کو اختیار کرنا جسے (حق) پہچانتے ہو اور اسے چھوڑ دینا جس کا انکار کرتے ہو، اور تم اپنے خاص (ذاتی و قریبی) معاملات کی فکر کرنا اور عام لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دینا۔“ سعید بن منصور نے کہا: «حُثالة الناس» سے مراد رذیل لوگ ہیں، اور «مَرِجَت عهودهم» کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے عہدوں کی پاسداری نہیں کریں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔