المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
إِخْبَارُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - بِفِتْنَةِ عُثْمَانَ باب: نبی کریم ﷺ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنے (شہادت) کے بارے میں خبر دینا
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب بن خالد، أخبرنا موسى بن عُقبة، أخبرني جدِّي أبو أُمِّي أبو حَبِيبة (1): أنه دخل الدارَ وعثمانُ محصورٌ فيها، وأنه سمع أبا هريرة يستأذنُ عثمان في الكلام، فأَذِنَ، له، فقام فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ستَلقَونَ بعدي فتنةً واختلافًا" أو قال: "اختلافًا وفتنة"، فقال له قائل: يا رسول الله، بمَ (2) تأمرنا؟ قال: "عليكم بالأمير وأصحابه"، وهو يشيرُ بذلك إلى عثمان (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8335 - صحيحابوحبیبہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے جبکہ آپ محصور تھے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بات کرنے کی اجازت طلب کی، آپ نے اجازت دی تو وہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم میرے بعد فتنوں اور اختلاف سے ملو گے،“ کسی کہنے والے نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”تم امیر اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: نسخہ (ک) اور (م) میں یہ تحریف ہو کر "ابو حیۃ" ہو گیا ہے۔
(2) في النسخ الخطية: أو بما، وهو خطأ، وفي "تلخيص الذهبي": بما، بألف، وهو جائز، والجادَّة حذف الألف.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "او بما" ہے جو کہ غلط ہے۔ ذہبی کی "تلخیص" میں "بما" (الف کے ساتھ) ہے جو کہ جائز ہے، لیکن اصل قاعدہ (جادۃ) الف کا حذف ہونا ہے۔
(3) إسناده حسن من أجل أبي حبيب. وقد سلف برقم (4591).
درجۂ حدیث: یہ سند "ابو حبیب" کی وجہ سے "حسن" ہے۔ اور یہ نمبر (4591) پر گزر چکی ہے۔