المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
إِخْبَارُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - بِفِتْنَةِ عُثْمَانَ باب: نبی کریم ﷺ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنے (شہادت) کے بارے میں خبر دینا
حدیث نمبر: 8542
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي والعباس بن الفَضْل الأسفاطي والحسن بن علي بن زياد، قالوا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيْس، حدثني سليمان بن بلال، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن أبي حُميد، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ: "لتُنتَقَيُنَّ كما يُنتقَى التمرُ من الجَفْنة، فليذهَبَنَّ خيارُكم وليبقَيَنَّ شِرارُكم، فموتوا إن استطعتُم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله رواية أخرى عن يونس بن يزيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8337 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں (فتنوں کے ذریعے) اسی طرح چن لیا جائے گا جیسے لگن (بڑے پیالے) سے اچھی کھجوریں چن لی جاتی ہیں، پس تمہارے بہترین لوگ رخصت ہو جائیں گے اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، تو اگر تم سے ہو سکے تو (فتنوں سے بچنے کے لیے) موت کو گلے لگا لو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبي حميد، وليس هو الطاعني كما توهم المصنف، وقد سبق بيانه فيما سلف برقم (8084).
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، لیکن یہ سند ابو حمید کی وجہ سے ضعیف ہے، اور یہ (ابو حمید) "الطاعنی" نہیں ہیں جیسا کہ مصنف نے وہم کیا ہے۔ اس کی وضاحت پیچھے نمبر (8084) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، لیکن یہ سند ابو حمید کی وجہ سے ضعیف ہے، اور یہ (ابو حمید) "الطاعنی" نہیں ہیں جیسا کہ مصنف نے وہم کیا ہے۔ اس کی وضاحت پیچھے نمبر (8084) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8542 سے ماخوذ ہے۔