حدیث نمبر: 8544
حدثنا أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهانَ الجزَّار بمكة حَرَسها الله على الصَّفا إملاءً، حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغُ المكِّي، حدثنا سعيد بن منصور المكّي، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن (2) أبي حازم، عن عُمارة بن عمرو بن حَزم، عن عبد الله بن عمرو، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "يُوشِكُ أن يأتي زمانٌ يُغربَلُ الناسُ فيه غَربلةً، ويَبْقى حُثالةٌ من الناس قد مَرِجَت عهودهم وأماناتُهم، واختلَفوا وكانوا هكذا" وشبَّك بين أصابعه، قالوا: فكيف تأمُرنا يا رسول الله؟ قال: "تأخذون ما تَعرِفون، وتَدَعُون ما تُنكرون، وتُقبلون على أَمرِ خَاصَّتِكم، وتَدَعُون أمر عامَّتِكم" (3). قال سعيد بن منصور: حُثالة الناس: رُذَالُهم، ومعنى قوله: "مَرِجَت عهودهم" إِذْ لم يَفُوا بها.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8340 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کو اس طرح چھانٹ دیا جائے گا جیسے غلہ چھانٹا جاتا ہے، اور صرف نکمے اور گھٹیا لوگ باقی رہ جائیں گے جن کے عہد اور امانتیں بگڑ چکی ہوں گی، اور وہ (اختلاف کی وجہ سے) اس طرح ہو جائیں گے“ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے دکھایا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس چیز کو اختیار کرنا جسے (حق) پہچانتے ہو اور اسے چھوڑ دینا جس کا انکار کرتے ہو، اور تم اپنے خاص (ذاتی و قریبی) معاملات کی فکر کرنا اور عام لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دینا۔“ سعید بن منصور نے کہا: «حُثالة الناس» سے مراد رذیل لوگ ہیں، اور «مَرِجَت عهودهم» کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے عہدوں کی پاسداری نہیں کریں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8544
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8544] [ترقيم الشركة 8442] [ترقيم العلميه 8340]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرّف في نسخنا الخطية إلى: بن.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "بن" ہو گیا ہے۔
(3) إسناده صحيح. وقد سلف برقم (2704).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے اور یہ نمبر (2704) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8544 سے ماخوذ ہے۔