کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: فتنے کے وقت نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے احکامات کا تذکرہ
أخبرنا محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله تعالى، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، عن مَعمَر، عن أبي عِمران الجَوْنيّ. وأخبرنا الحسن بن محمد بن حَلِيمٍ الدِّهْقانُ بمَرُو، أخبرنا أبو نصر أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري (3)، حَدَّثَنَا سعيد بن هُبَيرة، حَدَّثَنَا حمّاد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا أبو عمران الجَوْني، عن عبد الله بن الصامت، عن أبي ذرٍّ قال: قال رسول الله ﷺ: "يا أبا ذرٍّ، كيف تَصنعُ إذا جاع (4) الناسُ حتَّى لا تستطيعَ أن تقومَ من مسجدِك إلى فراشِك، ولا من فراشِك إلى مسجدِك؟ " قال: قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال: "تَعِفُّ" ثم قال: "كيف تَصنعُ إذا مات الناسُ حتَّى يكونَ البيتُ بالوَصِيف؟ " قال: قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال: "تَصبِرُ" ثم قال: "كيف تَصنعُ إذا أقبلَ الناسُ حتَّى تَغرقَ أحجارُ (1) الزيت بالدِّماء؟ " قال: قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال: "تأتي مَن أنت منه" قلت: فإِن أَبَى عليَّ؟ قال: "إِنْ خِفْتَ أن يَبهَرَك شُعاعُ السَّيف، فأَلْقِ طائفةَ ردائِك على وجهِك يَبُوءُ بإثمِك وإثمِه فيكونَ من أصحاب النار" قلت: أفلا أَحمِلُ السلاح؟ قال: "إذًا تُشارِكَه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد خرَّجه البخاري من حديث همّام عن أبي عِمران (3)، وقد زاد حماد بن زيد في إسناده بين أبي عمران الجَوْني وعبد الله بن الصامت المشعَّثَ بن طَريف بزيادةٍ في المتن، وحمادُ بن زيد أثبتُ من حماد بن سَلَمة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8304 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد خرَّجه البخاري من حديث همّام عن أبي عِمران (3)، وقد زاد حماد بن زيد في إسناده بين أبي عمران الجَوْني وعبد الله بن الصامت المشعَّثَ بن طَريف بزيادةٍ في المتن، وحمادُ بن زيد أثبتُ من حماد بن سَلَمة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8304 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب لوگ ایسی بھوک میں مبتلا ہو جائیں گے کہ تم اپنی مسجد سے اپنے بستر تک اور بستر سے مسجد تک جانے کی سکت نہیں رکھو گے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پاکدامنی اختیار کرنا (یعنی کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا)“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کیا کرو گے جب لوگ اتنی کثرت سے مریں گے کہ ایک قبر کی جگہ ایک غلام «بِالْوَصِيفِ» کے عوض ملے گی؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم صبر کرنا“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کیا کرو گے جب لوگ (آپس میں قتال کے لیے) اس طرح آگے بڑھیں گے کہ مدینہ کا مقام احجار الزیت خون میں ڈوب جائے گا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان لوگوں کے پاس چلے جانا جن سے تمہارا تعلق ہے“ میں نے عرض کیا: اگر وہ مجھ پر (تلوار لے کر) غالب آنے کی کوشش کریں تو کیا میں ہتھیار اٹھا لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو تم بھی اس (گناہ) میں اس کے شریک ہو جاؤ گے“ میں نے عرض کیا: تو پھر میں کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں تلوار کی چمک سے ڈر لگے تو اپنی چادر کا پلو اپنے چہرے پر ڈال لینا، وہ تمہارا اور اپنا گناہ سمیٹ کر اہل جہنم میں سے ہو جائے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، امام بخاری نے اسے ابوعمران سے ہمام کی روایت کردہ حدیث سے نکالا ہے، اور حماد بن زید نے اس کی سند میں ابوعمران جونی اور عبداللہ بن صامت کے درمیان مشعث بن طریف کا اضافہ کیا ہے جس میں متن میں بھی زیادتی ہے، جبکہ حماد بن زید، حماد بن سلمہ سے زیادہ ثقہ اور مستند ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، امام بخاری نے اسے ابوعمران سے ہمام کی روایت کردہ حدیث سے نکالا ہے، اور حماد بن زید نے اس کی سند میں ابوعمران جونی اور عبداللہ بن صامت کے درمیان مشعث بن طریف کا اضافہ کیا ہے جس میں متن میں بھی زیادتی ہے، جبکہ حماد بن زید، حماد بن سلمہ سے زیادہ ثقہ اور مستند ہیں۔
أخبرنا الحسن بن حَليم، حَدَّثَنَا أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري، حَدَّثَنَا سعيد بن هُبَيرة، حَدَّثَنَا حمَّاد بن زيد، حَدَّثَنَا أبو عِمران الجَوْني، عن المُشعَّث بن طَريف، عن عبد الله بن الصامت، عن أبي ذرٍّ قال: قال رسول الله ﷺ: "يا أبا ذرٍّ" قلت: لبَّيك يا رسول الله وسَعدَيك، قال: "كيف أنت إذا أصاب الناسَ جوعٌ؛ تأتي مسجدَك فلا تستطيعُ أن ترجعَ إلى فِراشِك، وتأتي فراشك فلا تستطيعُ أن تنهض إلى مسجدِك؟ " قلت: الله ورسوله أعلمُ - أو ما خارَ اللهُ لي ورسوله - قال: "عليك بالعِفَّة" ثم قال: "يا أبا ذرٍّ" قلت: لبَّيكَ يا رسول الله وسَعدَيك، قال: "كيف أنت إذا أصاب الناسَ موتٌ يكون البيتُ فيه بالوَصِيف؟ " يعني القبرَ، قال: قلت: الله ورسوله أعلمُ - أو ما خار اللهُ لي ورسولُه - قال: "عليك بالصَّبرِ - أو قال: تَصبِرُ - " ثم قال: "يا أبا ذرٍّ" قلت: لبَّيكَ يا رسول الله وسَعدَيك (1)، قال: "كيف أنت إذا رأيتَ أحجارَ الزيتِ قد غَرِقَت بالدم" قلت: ما خارَ الله لي ورسولُه، قال: "تَلْحَقُ بمن أنت منه - أو قال عليك بمن أنت منه - " قلت: أفلا آخذُ سيفي فأضَعُه على عاتِقي؟ قال: "شاركتَ إذًا؟ قلت: فما تأمرُني؟ قال: "تلزمُ بيتَك" قلت: أرأيتَ إن دُخِلَ عليَّ بيتي؟ قال: "فَإِن خَشِيتَ أن يَبهَرَك شُعاعُ السَّيف، فألْقِ رداءَك على وجهِك يَبُوءُ بإثمِه وإثمِك" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں یا رسول اللہ اور آپ کی خدمت کے لیے تیار ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب لوگوں کو ایسی شدید بھوک لاحق ہو جائے گی کہ تم اپنی مسجد تو آؤ گے مگر واپس اپنے بستر تک جانے کی سکت نہیں رکھو گے، اور بستر پر ہو گے تو مسجد تک اٹھ کر آنے کی ہمت نہیں پاؤ گے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں - یا جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں - آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر پاکدامنی (اور سوال نہ کرنا) لازم ہے“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں یا رسول اللہ اور آپ کی خدمت کے لیے تیار ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب لوگوں میں ایسی موت (وباء) پھیلے گی کہ ایک گھر (یعنی قبر کی جگہ) ایک غلام کے عوض ملے گی؟“ (یعنی قبرستان میں جگہ اتنی نایاب ہو جائے گی) میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں - یا جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں - آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر صبر لازم ہے“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں یا رسول اللہ اور آپ کی خدمت کے لیے تیار ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب تم دیکھو گے کہ (مدینہ کا مقام) احجارِ زیت خون میں ڈوب گیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان لوگوں کے ساتھ مل جانا جن سے تمہارا تعلق ہے (یعنی اپنے قبیلے یا گھر والوں کے پاس چلے جانا)“ میں نے عرض کیا: کیا میں اپنی تلوار اٹھا کر اپنے کندھے پر نہ رکھ لوں (تاکہ لڑوں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو تم بھی (اس فتنے اور خونریزی میں) شریک ہو جاؤ گے“، میں نے عرض کیا: تو پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے گھر کو لازم پکڑو“، میں نے عرض کیا: اگر کوئی (حملہ آور) میرے گھر میں گھس آئے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں ڈر ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں مغلوب کر لے گی، تو اپنی چادر کا پلو اپنے چہرے پر ڈال لینا (تاکہ تم اسے قتل نہ کرو اور وہ تمہیں قتل کر دے)، وہ تمہارا اور اپنا گناہ سمیٹ کر (جہنم کی طرف) لوٹے گا۔“
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر بن سابق، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، أنه سمع أبا ثَعْلبة الخُشَنيّ يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "لم (3) يُعجِزِ اللهُ هذه الأُمّةَ من نصفِ يوم" (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8306 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8306 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ اس امت کو آدھے دن کی مہلت دینے سے ہرگز عاجز نہیں آئے گا۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔
ما أخبرَناه أبو النَّضر الفقيه حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حَدَّثَنَا محمد بن المتوكَّل العَسْقلانيّ، حَدَّثَنَا الوليد بن مسلم، أخبرنا أبو بكر بن عبد الله بن أبي مريم، عن راشد بن سعد، عن سعد بن أبي وقَّاص، أنَّ رسول الله ﷺ قال: " [لن] (1) يُعجِزَني عند ربِّي أن يُؤجِّلَ أمَّتي نصفَ يوم" قيل: وما نصفُ يوم؟ قال: "خمسُ مئةِ سنةٍ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا رب میرے لیے اس بات سے عاجز نہیں ہوگا کہ وہ میری امت (کی مدت) میں آدھے دن کی تاخیر (اضافہ) فرما دے۔“ عرض کیا گیا کہ آدھا دن کتنا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ سو سال۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔