المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
ذِكْرُ مَا أَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْفِتْنَةِ باب: فتنے کے وقت نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے احکامات کا تذکرہ
أخبرنا الحسن بن حَليم، حَدَّثَنَا أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري، حَدَّثَنَا سعيد بن هُبَيرة، حَدَّثَنَا حمَّاد بن زيد، حَدَّثَنَا أبو عِمران الجَوْني، عن المُشعَّث بن طَريف، عن عبد الله بن الصامت، عن أبي ذرٍّ قال: قال رسول الله ﷺ: "يا أبا ذرٍّ" قلت: لبَّيك يا رسول الله وسَعدَيك، قال: "كيف أنت إذا أصاب الناسَ جوعٌ؛ تأتي مسجدَك فلا تستطيعُ أن ترجعَ إلى فِراشِك، وتأتي فراشك فلا تستطيعُ أن تنهض إلى مسجدِك؟ " قلت: الله ورسوله أعلمُ - أو ما خارَ اللهُ لي ورسوله - قال: "عليك بالعِفَّة" ثم قال: "يا أبا ذرٍّ" قلت: لبَّيكَ يا رسول الله وسَعدَيك، قال: "كيف أنت إذا أصاب الناسَ موتٌ يكون البيتُ فيه بالوَصِيف؟ " يعني القبرَ، قال: قلت: الله ورسوله أعلمُ - أو ما خار اللهُ لي ورسولُه - قال: "عليك بالصَّبرِ - أو قال: تَصبِرُ - " ثم قال: "يا أبا ذرٍّ" قلت: لبَّيكَ يا رسول الله وسَعدَيك (1)، قال: "كيف أنت إذا رأيتَ أحجارَ الزيتِ قد غَرِقَت بالدم" قلت: ما خارَ الله لي ورسولُه، قال: "تَلْحَقُ بمن أنت منه - أو قال عليك بمن أنت منه - " قلت: أفلا آخذُ سيفي فأضَعُه على عاتِقي؟ قال: "شاركتَ إذًا؟ قلت: فما تأمرُني؟ قال: "تلزمُ بيتَك" قلت: أرأيتَ إن دُخِلَ عليَّ بيتي؟ قال: "فَإِن خَشِيتَ أن يَبهَرَك شُعاعُ السَّيف، فألْقِ رداءَك على وجهِك يَبُوءُ بإثمِه وإثمِك" (2).
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں یا رسول اللہ اور آپ کی خدمت کے لیے تیار ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب لوگوں کو ایسی شدید بھوک لاحق ہو جائے گی کہ تم اپنی مسجد تو آؤ گے مگر واپس اپنے بستر تک جانے کی سکت نہیں رکھو گے، اور بستر پر ہو گے تو مسجد تک اٹھ کر آنے کی ہمت نہیں پاؤ گے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں - یا جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں - آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر پاکدامنی (اور سوال نہ کرنا) لازم ہے“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں یا رسول اللہ اور آپ کی خدمت کے لیے تیار ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب لوگوں میں ایسی موت (وباء) پھیلے گی کہ ایک گھر (یعنی قبر کی جگہ) ایک غلام کے عوض ملے گی؟“ (یعنی قبرستان میں جگہ اتنی نایاب ہو جائے گی) میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں - یا جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں - آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر صبر لازم ہے“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں یا رسول اللہ اور آپ کی خدمت کے لیے تیار ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب تم دیکھو گے کہ (مدینہ کا مقام) احجارِ زیت خون میں ڈوب گیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان لوگوں کے ساتھ مل جانا جن سے تمہارا تعلق ہے (یعنی اپنے قبیلے یا گھر والوں کے پاس چلے جانا)“ میں نے عرض کیا: کیا میں اپنی تلوار اٹھا کر اپنے کندھے پر نہ رکھ لوں (تاکہ لڑوں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو تم بھی (اس فتنے اور خونریزی میں) شریک ہو جاؤ گے“، میں نے عرض کیا: تو پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے گھر کو لازم پکڑو“، میں نے عرض کیا: اگر کوئی (حملہ آور) میرے گھر میں گھس آئے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں ڈر ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں مغلوب کر لے گی، تو اپنی چادر کا پلو اپنے چہرے پر ڈال لینا (تاکہ تم اسے قتل نہ کرو اور وہ تمہیں قتل کر دے)، وہ تمہارا اور اپنا گناہ سمیٹ کر (جہنم کی طرف) لوٹے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: عبارت "قال: كیف انت اذا اصاب الناس موت" سے لے کر یہاں تک کا حصہ نسخہ (ز) اور (ب) سے ساقط ہو گیا تھا، جسے ہم نے (ک) اور (م) سے بحال کیا ہے۔ ان دونوں نسخوں میں لفظ "البیت" تحریف ہو کر "المیت"، اور لفظ "یعنی" تحریف ہو کر "غیر" بن گیا تھا۔
والمراد بالبيت هنا: القبر، وبالوصيف: الغلام قال ابن الأثير في "النهاية": أراد أنَّ مواضع القبور تضيق فيبتاعون كل قبر بوصيف.
مجموعی اصول / قاعدہ: یہاں "بیت" (گھر) سے مراد "قبر" ہے، اور "وصیف" سے مراد "غلام" ہے۔ ابن اثیر "النھایۃ" میں فرماتے ہیں: "مراد یہ ہے کہ قبروں کی جگہیں اتنی تنگ (کم) ہو جائیں گی کہ لوگ ہر قبر ایک غلام کے بدلے خریدیں گے۔"
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل سعيد بن هبيرة كما في سابقه، لكنه متابع، وقد سلف الحديث عند المصنّف برقم (2699) من طريق سليمان بن حرب عن حماد بن زيد، فانظر تخريجه من طريق حماد بن زيد والكلام عليه هناك.
درجۂ حدیث: یہ حدیث (متن کے لحاظ سے) صحیح ہے، لیکن یہ سند سعید بن ہبیرہ کی وجہ سے ضعیف ہے جیسا کہ پچھلی روایت میں گزرا، لیکن اس کی متابعت موجود ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ حدیث مصنف کے ہاں پہلے نمبر (2699) پر سلیمان بن حرب عن حماد بن زید کے طریق سے گزر چکی ہے، لہٰذا حماد بن زید کے طریق سے اس کی تخریج اور اس پر کلام وہاں دیکھیں۔