کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تم پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں صرف وہی نجات پائے گا جو ڈوبنے والے کی طرح گڑگڑا کر دعا کرے گا
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا محمد بن إبراهيم بن أُورْمَة (3)، حَدَّثَنَا الحسين بن حفص عن سفيان الثَّوري، عن الأعمش، عن عُمارة بن عُمير، عن حُذَيفة قال: يأتي عليكم زمانٌ لا يَنجُو فِيه إِلَّا مَن دعا دعاءَ الغَرَق (4). هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8308 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8308 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں سوائے اس شخص کے کوئی نجات نہیں پائے گا جو اس طرح گڑگڑا کر دعا کرے جیسے غرق ہونے والا (ڈوبتا ہوا) انسان دعا کرتا ہے۔“
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، عن ضَمْرة بن حبيب، أنَّ ابن زُغْب الإيادي حدَّثه، قال: نزل (1) علي عبد الله بن حَوَالةَ الأَزْدي، فقال لي وإنَّه لنازل عليَّ في بيتي -: لا أُمّ لك، أما يكفي ابنَ حَوَالة مئةٌ تجري عليه في كلِّ عام؟! ثم قال: بَعَثَنا رسولُ الله ﷺ حول المدينة على أقدامنا لِنَعْنَمَ، فَرَجَعْنا ولم نَغنَمْ وعَرَفَ الجَهْدَ في وجوهنا، فقام فينا فقال: "اللهم لا تكلهم إليَّ فأضعُفَ عنهم، ولا تَكِلْهم إلى أنفسهم فيعجزوا عنها، ولا تكلهم إلى الناس فيستأثروا عليهم"، ثم قال: "لتَفتَحُنَّ الشام وفارس - أو الروم وفارس - حتى يكون لأحدكم من الإبل كذا وكذا، ومن البقر كذا وكذا، وحتى يُعطى أحدكم مئة دينار فيَسخَطَها"، ثم وَضَعَ يَدَه على رأسي وعلى هامتي، فقال: "يا ابنَ حَوَالة، إذا رأيت الخلافة قد نزلت الأرض المقدَّسة، فقد دَنَتِ الزلازل والبلايا والأمورُ العِظام، للسَّاعةُ يومئذٍ أقرب للناس من يدي هذه من رأسك هذا" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وعبد الرحمن بن زُغب الإيادي معروف في تابعي أهل مصر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8309 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وعبد الرحمن بن زُغب الإيادي معروف في تابعي أهل مصر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8309 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابن زغب ایادی سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ ان کے ہاں مہمان ٹھہرے، تو انہوں نے مجھ سے کہا - جبکہ وہ میرے گھر میں مقیم تھے -: ”تمہاری ماں نہ رہے (کلمہ تعجب)، کیا ابن حوالہ کے لیے سالانہ سو (دینار) وظیفہ کافی نہیں؟!“ پھر انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مدینہ کے گرد و نواح میں پیادہ پا غنیمت حاصل کرنے کے لیے بھیجا، مگر ہم واپس آئے اور ہمیں کچھ بھی حاصل نہ ہوا، آپ ﷺ نے ہمارے چہروں پر مشقت کے اثرات دیکھ لیے، تو آپ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور یہ دعا فرمائی: «اللّٰهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ عَنْهُمْ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ» ”اے اللہ! انہیں میرے سپرد نہ کر کہ میں ان کی کفالت سے عاجز آ جاؤں، اور نہ ہی انہیں ان کے اپنے نفسوں کے حوالے کر کہ وہ اس سے قاصر رہ جائیں، اور نہ ہی انہیں لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کہ وہ ان پر اپنا حق جتانے لگیں۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ضرور شام اور فارس - یا روم اور فارس - کو فتح کرو گے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کے پاس اتنے اونٹ اور اتنی گائیں ہوں گی، اور یہاں تک کہ ایک شخص کو سو دینار دیے جائیں گے تو وہ (اسے کم جان کر) اس پر ناراض ہوگا۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سر اور میری پیشانی پر رکھا اور فرمایا: ”اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارضِ مقدسہ (بیت المقدس) میں جا اتری ہے، تو یقین کر لینا کہ زلزلے، بلائیں اور بڑے بڑے فتنے قریب آ چکے ہیں، اس دن قیامت لوگوں سے اتنی قریب ہوگی جتنی کہ میرا یہ ہاتھ تمہارے اس سر سے قریب ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبدالرحمن بن زغب ایادی مصر کے معروف تابعین میں سے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبدالرحمن بن زغب ایادی مصر کے معروف تابعین میں سے ہیں۔