کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: گلے کی بیماری (عذرہ) کا علاج
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، حدثني يحيى بن عبد الحميد، حَدَّثَنَا حَمّاد بن شُعيب، عن أبي الزّبير، عن جابر قال: جاءت امرأةٌ إلى رسول الله ﷺ فقالت: يا رسول الله، إن ابني هذا به العُذْرةُ، قال: "لا تُحرِقْنَ حُلوقَ أولادِكنُّ، عليكنَّ بِقُسْطٍ هِنْديٍّ وَوَرْسٍ فَأَسعِطْنَه إياه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8239 - حماد ويحيى ضعيفان
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے اس بیٹے کو عذرہ (حلق کی بیماری) ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے بچوں کے حلق کو (دبا کر) نہ جلایا کرو، تم عودِ ہندی (قسطِ ہندی) اور ورس (ایک زرد گھاس) کا استعمال کیا کرو اور اسے ناک کے ذریعے یہ دوا دو۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 8443
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيى وحماد، وبهما أعلّه الذهبي في "تلخيصه"، إلّا أنهما متابَعان فيما سلف عند المصنّف برقم (7645)» [ترقيم الرساله 8443] [ترقيم الشركة 8341] [ترقيم العلميه 8239]
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن عبد الله بن السَّمَّاك ببغداد، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي، حَدَّثَنَا مُعاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن أبي عبد الله البَحْرانيّ، عن زيد بن أرقَمَ قال: سمعت نبيَّ الله ﷺ يَنعَتُ الزيتَ والوَرْسَ من ذات الجَنْب. قال قتادة: يُلَدُّ (2) من جانبه الذي يشتكيه (3).
هذا حديث عالي الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8240 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اللہ کے نبی ﷺ کو سنا کہ آپ ﷺ ذات الجنب (پھیپھڑوں کی تکلیف) کے لیے زیتون کے تیل اور ورس کا نسخہ بیان فرما رہے تھے۔ قتادہ نے کہا: (اسے استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ) اسے اس جانب سے منہ میں ڈالا جائے جس طرف تکلیف ہو۔
یہ حدیث عالی الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 8444
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وقد سلف برقم (7632)» [ترقيم الرساله 8444] [ترقيم الشركة 8342] [ترقيم العلميه 8240]
حَدَّثَنَا أبو نَصْر محمد بن أحمد بن محمد، حَدَّثَنَا محمد بن عمرو بن النَّضْرِ الحَرَشيُّ، حَدَّثَنَا يحيى بن يحيى، أخبرنا عيسى بن يونس، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر قال: دخل النَّبِيُّ ﷺ على عائشة وعندها امرأةٌ معها صبيٌّ لها يَسيلُ مَنْخِراهُ دمًا، فقال النَّبِيّ ﷺ: "ما شأنُ هذا؟ " قالوا: به العُذْرةُ، قال: "وَيْلَكنّ، لا تَقتُلنَ أولادَكنّ؛ أيّةُ امرأةٍ يأتي ولدَها العُذْرةُ فلتأخُذْ قُسْطًا هنديًّا فلتحُكَّه بالماء ثم لتُسعِطْه إياه"، ثم أَمر عائشةَ ففعلته بالصبي فبَرَأ (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8241 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو ان کے پاس ایک عورت تھی جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا جس کے نتھنوں سے خون بہہ رہا تھا، نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ اسے عذرہ (حلق کا ورم) ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر افسوس ہے، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو؛ جس عورت کے بچے کو عذرہ کی تکلیف ہو اسے چاہیے کہ وہ قسطِ ہندی لے کر اسے پانی میں رگڑے اور پھر اسے ناک کے راستے اس کی نسوار دے“، پھر آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تو انہوں نے اس بچے کے ساتھ ایسا ہی کیا اور وہ تندرست ہو گیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 8445
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي سفيان، ومحمد بن عمرو الحرشي صدوق حسن الحديث، وقد سلف الحديث برقم (7644) من غير هذا الوجه عن الأعمش» [ترقيم الرساله 8445] [ترقيم الشركة 8343] [ترقيم العلميه 8241]