حدیث نمبر: 8443
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، حدثني يحيى بن عبد الحميد، حَدَّثَنَا حَمّاد بن شُعيب، عن أبي الزّبير، عن جابر قال: جاءت امرأةٌ إلى رسول الله ﷺ فقالت: يا رسول الله، إن ابني هذا به العُذْرةُ، قال: "لا تُحرِقْنَ حُلوقَ أولادِكنُّ، عليكنَّ بِقُسْطٍ هِنْديٍّ وَوَرْسٍ فَأَسعِطْنَه إياه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8239 - حماد ويحيى ضعيفان
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے اس بیٹے کو عذرہ (حلق کی بیماری) ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے بچوں کے حلق کو (دبا کر) نہ جلایا کرو، تم عودِ ہندی (قسطِ ہندی) اور ورس (ایک زرد گھاس) کا استعمال کیا کرو اور اسے ناک کے ذریعے یہ دوا دو۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 8443
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيى وحماد، وبهما أعلّه الذهبي في "تلخيصه"، إلّا أنهما متابَعان فيما سلف عند المصنّف برقم (7645)» [ترقيم الرساله 8443] [ترقيم الشركة 8341] [ترقيم العلميه 8239]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيى وحماد، وبهما أعلّه الذهبي في "تلخيصه"، إلّا أنهما متابَعان فيما سلف عند المصنّف برقم (7645).
درجۂ حدیث: نفسِ حدیث صحیح ہے، لیکن یہ سند یحییٰ اور حماد کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، اور اسی وجہ سے ذہبی نے "التلخیص" میں اسے معلول قرار دیا ہے۔
اہم نکتہ: تاہم مصنف کے ہاں نمبر (7645) پر ان دونوں کی متابعت موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8443 سے ماخوذ ہے۔